تاریخ افکار اسلامی — Page 85
تاریخ افکا را سلامی پیش نظر نہ رہا اور ہر صاحب علم اپنی اپنی جگہ اجتہاد کرنے لگا۔ہر ایک اپنی سمجھ اور اپنے مجوزہ اصول کے تحت مسائل شرعیہ کی تصریح میں لگ گیا حالانکہ قرآن کریم اور ارشاد نبوی دونوں کا تقاضا تھا کہ قومی اور جماعتی مسائل میں اجتماعی اجتہاد کی راہ اختیار کی جاتی اور خلافت راشدہ کی نگرانی میں یہ عمل تکمیل کے مراحل طے کرتا اور مسائل شرعیہ عملیہ کی تعیین اور تطبیق کا فریضہ سرانجام دیا جاتا۔انفرادی اجتهادا ور علمی بحث وسعت علمی اور آزادی فکر کا موجب تو ہے لیکن وحدت قومی اور اتحاد عملی کے لئے اجتماعی اجتہاد کی ضرورت سے بھی کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا۔انفرادی سوچ کی آزادی اور اجتماعی شوری کی اہمیت دونوں کے درمیان توازن ہی قومی امنگوں کا امین ہے لیے قال الله تعالی و امرهم شورى بينهم (الشوری: ۳۹) یعنی ان مومنوں کا طریق زندگی یہ ہے کہ ہرا ہم معاملہ کو با ہم مشورہ سے طے کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سوال کیا گیا۔یا رسول الله الامر ينزل بنا لم ينزل فيه القرآن ولم تمض فيه منك سنة ـ قال اجمعوا له العالمين من المؤمنين فاجعلوه شورى بينكم ولا تقضوا فيه يرأي واحد ( الامام الشافعی صفحه (۲۸۴