تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 82 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 82

Ar کی اصطلاح میں قرآن وحدیث کے دلائل کو سامنے رکھ کر احکام شرعیہ عملیہ کے معلوم کرنے میں اپنی پوری کوشش صرف کر دینے کا نام اجتہاد ہے۔یہ کوشش جس کا نام اجتہاد ہے اُمت مسلمہ کے علماء اور فقہاء کے لئے واجب ہے کیونکہ زندگی کے بے شمار پہلو ہیں ہر پہلو کے لئے شریعت نے ایک خاص ہدایت اور ایک خاص حکم دیا ہے جس کا معلوم کرنا ضروری ہے اور یہ علم اُمت کے فقہاء اور علماء ہی بہم پہنچا سکتے ہیں۔اجتہاد کے جواز یا وجوب کے بارہ میں وہی اختلاف ہے جو رائے“ کے بارہ میں ہے کیونکہ بظاہر اجتہاد اور رائے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد کا مفہوم رائے کے مفہوم سے زیادہ وسیع اور عام ہے۔قرآن کریم کے لغوی معنوں پر غور کر کے کوئی حکم مستعبط کرنے کا نام بھی اجتہاد ہے۔کسی حکم کے بارہ میں حد بیث تلاش کرنا اور اسے بطور دلیل پیش کرنا اور لغت کے لحاظ سے اس کے معنے معین کرنے کو بھی اجتہاد کہہ سکتے ہیں۔اس کے بالمقابل رائے کا مفہوم محدود ہے۔اجتہاد کے بارے میں یہ جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس سے اختلافات ابھرتے ہیں اور تفرقہ بڑھتا ہے اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ اختلاف فروع اور جزئیات میں ہوتا ہے اور اگر عقل اور کمجھ سے کام لیا جائے اور لوگوں کی طبائع اور عادات پر نظر رکھی جائے تو اس اختلاف میں برکت اور سہولت ہے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةٌ کہ تمدنی، تہذیبی اور معاشرتی مسائل میں گنجائش اور وسعت کے لحاظ سے میری امت کا اختلاف باعث رحمت ہے۔یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ اجتہاد کا تعلق قطن غالب اور ظاہر سے ہے حقیقت کیا ہے اور باطن میں ل الاجتهاد في اللغة بذل غاية الجهد للوصول الى امر من الأمور وفي اصطلاح الفقهاء بذل الفقيه وسعه في استبناط الاحكام العملية من ادلتها التفصيلية (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ١٠٩) يقول الشافعي ان لله في كل واقعة حكما معيّنا وعلى المجتهد طلبه والعمل به - الامام الشافعی صفحه (۲۲۴) فالاجتهاد واجب للمجتهدين۔۔۔وليس لاحد ابدا ان يقول في شيءٍ حَلَّ أَوْ حَرُمَ إِلَّا من جهة العلم وجهة العلم الخير في الكتاب او السنة او الاجماع او القياس الامام الشافعی صفحه ۰۲۱۷ ۱۳۸، ۲۳۸ - مالک بن انس صفحه (۳۳) يقول عمر بن عبد العزيز إن الصحابة فتحوا للناس باب الاجتهاد و جواز الاختلاف فيه لانهم لو لم يفتحوه لكان المجتهدون في ضيق - (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ٣٩)