تاریخ افکار اسلامی — Page 49
تاریخ افکار را سلامی نے جواب میں کہا حضرت عمر حج کے لئے گئے تو ان کا کل خرچ دس پندرہ درہم تھا اور آپ اس غرض کے لئے آئے تو اس قدر سامان آسائش ساتھ لائے ہیں کہ کئی اونٹ بھی اسے نہیں اٹھا سکتے۔یہ کہہ کر آپ دربار سے اٹھ آئے۔لے ایک دفعہ ابو جعفر منصور نے حضرت امام جعفر صادق سے کہا۔اہل مدینہ کی مخالفت سے میں تنگ آ گیا ہوں۔وہ بار بار دوسروں کے بہکاوے میں آکر بغاوت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اس لئے چاہتا ہوں کہ سارے شہر کو لوٹ لوں اور ان کے باغوں کو آگ لگا دوں اور سمندر کے راستہ ان تک غلہ نہ پہنچنے دوں۔آپ نے اس کے جواب میں فرمایا۔امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ نے سلیمان کو حکومت دی تو وہ شکر بجالائے۔ایوب مشکلات سے دو چار ہوئے تو انہوں نے صبر کا نمونہ دکھایا۔یوسف کو جب اقتدار ملا تو آپ نے زیادتی کرنے والے بھائیوں کو معاف کر دیا۔آپ کا تعلق بھی انہی بزرگوں کی نسل سے ہے جو معاف کرنے والے اور در گذر کرنے والے تھے۔انہی کا نمونہ اختیار کیجئے ہے بنوامیہ پر جب بنو عباس غالب آئے تو خلیفہ عباسی کے چا عبد اللہ بن علی نے شام کے عالم حضرت امام اوزاعی سے پوچھا بنو امیہ کے قتل کے بارہ میں شریعت کیا کہتی ہے۔انہوں نے جواب دیا۔آپ نے انہیں امان دی ہے اور آپ کی زبان پر بھروسہ کر کے انہوں نے اپنے آپ کو تمہارے سپر د کیا ہے اس لئے اُن کا خون بہانا آپ کے لئے جائز نہیں۔کے پھر اس نے پوچھا کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کے حق میں وصیت نہیں کی تھی۔آپ نے جواب دیا اگر وصیت کی ہوتی تو حضرت علیؓ جنگ صفین میں تحکیم کی تجویز ہرگز قبول نہ کرتے ہے اسی طرح حضرت امام ابو حنیفہ کے بارہ میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنے شاگر در شید امام ابو یوسف کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اگر تم سلطان وقت میں کوئی خلاف شرع بات دیکھو یا اس کے مالک بن انس صفحه ۲۴۳ قَدْ جَعَلَكَ اللهُ مِنْ نَسلِ الَّذِينَ يَعْفُونَ وَيَصْفَحُونَ (مالک بن انس صفحه ۲۴۲ ) ۲۳۲) دِمَالَهُمْ حَرَامٌ عَلَيْ۔۔۔۔۔۔۔۔((مالک بن انس صفحه ۲۲۵) لو أوضى إِلَيْهِ مَا حَكَمَ الْحَكَمَيْنِ (مالک بن انس صفحه ۲۲۵)