تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 390 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 390

تاریخ افکا را سلامی گدھے کی ان صفات پر جو مختصر بیان کی گئی ہیں غور کرنے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہاں کسی حیوانی گدھے کا ذکر نہیں ہو رہا بلکہ تمثیل کے رنگ میں اُس دجالی دور کی ایجادات اور طرح طرح کی نئی مشینی سواریوں کو بیان کیا جارہا ہے۔کوئی سمجھدا را اور عقلمند انسان یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ یہ کسی حیوانی گدھے کی صفات اور خصوصیات ہو سکتی ہیں۔یہ اعتراض کہ اس زمانہ کی مختلف ایجادات اور خاص طور پر سواریوں کو اگر دجال کی صنعت گرمی اور اس کا گدھا سمجھا جائے تو پھر مسلمان اور دوسری دنیا والے ان سے فائدہ کیوں اُٹھاتے ہیں۔کیا دجال کے گدھے پر سوار ہونا کوئی اچھی بات ہے اور کیا دنیا کی بھلائی ان سے وابسطہ ہو سکتی ہے انہیں تو دین و دنیا کی تباہی قرار دیا جانا چاہئیے ؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز میں خیر وشر کے دونوں پہلو ہوتے ہیں کوئی چیز بھی اپنی ذات میں بری نہیں ہوتی بلکہ مقصد اور استعمال کے لحاظ سے اُس میں بھلائی یا برائی کا وصف پیدا ہوتا ہے۔کسی چیز کو اچھے کام کے لئے استعمال کریں تو وہ چیز اچھی شمار ہوگی اور اگر بُرے کام کے لئے استعمال کریں تو ساری دنیا اُسے بُرا کہے گی۔پس چونکہ دجالی قوتوں نے اپنی ان صنعتوں اور ایجادوں کو استحصال اور تسلط اور تعلب اور فحاشی اور بے دینی پھیلانے کے لئے استعمال کرنا تھا اس لئے الہامی کتب میں ان کا ذکر شناعت اور برائی کے رنگ میں ہوا ہے۔ورنہ اپنی ذات میں یہ صنعتی اور علمی ترقی انسانیت کے فائدہ اور اس کی بہبود کے لئے بھی استعمال ہو سکتی ہے یا جوج ماجوج کے معنی بھی ایسی طاقتوں کے ہیں جو آگ سے کام لینے میں ماہر ہوں خاص طور پر ان کا فلسفہ تشد داور تخریب پسندی کے نظریات پر مبنی ہو۔پس یہ نام ان قوموں کو دیا گیا ہے جو اپنے نظریات کے فروغ کے لئے تشدد کے فلسفہ پر یقین رکھتی ہیں جیسا کہ اشترا کی طاقتوں کا انداز فکر ہے۔لبعض روایات اور سابقہ الہامی صحیفوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دجال کا خروج دو دفعہ ہوگا پہلی دفعہ مختصر عرصہ کے لئے اور دوسری دفعہ بڑے لمبا عرصہ کے لئے چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا ہے۔حسب پیشگوئی کے ۲۸۰ ھ بمطابق ۱۰۹۷ء میں پہلی دفعہ دجال کا ظہو ر صلیبی جنگوں کی شکل میں ہوا جن میں مغربی عیسائی حکومتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔یہ جنگیں قریباً دو سو سال تک کسی نہ کسی مکاشفه یوحنا باب ۲۶ آیت اتا ۱۳ اعلام النبوة صفحه ۳۵ مصنفه علی بن محمد الماوردی مطبوعه مصر