تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 379 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 379

تاریخ افکا را سلامی ٣٧٩ درمیان کی قسم ہے۔یہ تیسری قسم کا گرہن سب سے زیادہ نایاب ہے۔پروفیسر Mitchell نے ماضی کے گرہنوں کا جائزہ لینے سے یہ استنباط کیا ہے کہ اوسطاً صدی میں ۲۳۷ سورج گرہن ہوئے جن میں سے صرف دس اس قسم کے تھے۔۲۸ / رمضان المبارک ۱۳۱۱ ھ میں گرہن اس تیسری قسم کا تھا اس لئے وہ عام سورج گرہن سے مختلف تھا۔جیسا کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے ذکر فرمایا ہے۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ چاند کو جب گرہن لگتا ہے تو زمین کے نصف کرے سے زیادہ حصہ سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن سورج گرہن کم علاقہ سے دیکھا جاتا ہے۔کئی دفعہ ایسے مقامات پر سورج گرہن ہوتا ہے جہاں سمندر ہوتا ہے یا آبادی کم ہوتی ہے۔۱۸۹۴ء کا سورج گرہن ایشیا کے کئی مقامات سے دیکھا جا سکتا تھا جس میں ہندوستان بھی شامل ہے۔جہاں پیشگوئی کے مقصود سیدنا حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ اور آپ کے رفقاء نے اپنی آنکھوں سے اسے دیکھا۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس میں بھی حق کے طالبوں کے لئے نشان ہے کہ گرہن ہندوستان سے دیکھا جا سکتا تھا۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں۔ے بندگان خدا ! فکر کرو اور سوچو کہ کیا تمہارے نزدیک جائز ہے کہ مہدی تو بلا د عرب اور شام میں پیدا ہو اور اس کا نشان ہمارے ملک میں ظاہر ہو اور تم جانتے ہو کہ حکمت الہید نشان کو اس کے اہل سے جدا نہیں کرتی۔پس کیونکر ممکن ہے کہ مہدی تو مغرب میں ہوا اور اس کا نشان مشرق میں ظاہر ہو اور تمہارے لئے اس قدر کافی ہے اگر تم طالب حق ہوئے۔" پروفیسر Oppolzer کی کتاب Canon Eclipses میں صرف نمایاں سورج گرہنوں کے مقامات کو نقشہ کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔۱۸۹۴ء کے رمضان کا سورج گرہن چونکہ نمایاں قسم کا تھا اس لئے اس کے Track کو پروفیسر Oppolzer نے map سے بتایا ہے۔اس کتاب کے 148 Chart میں اس سورج گرہن کے راستہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔۱۸۹۴ء Nautical Almanal میں بھی اس سورج گرہن کے راستہ کو map سے بتایا گیا ہے۔دونوں کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سورج گرہن کا راستہ ہندوستان میں سے گزرتا ہے۔نورالحق حصہ دوم - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۱۶،۲۱۵ اردو تر جمعه