تاریخ افکار اسلامی — Page 377
تاریخ افکا را سلامی ۱۳۱۱ھ /۱۸۹۴ء کے رمضان کے گرہنوں کی خصوصیات اس نشان کے ظاہر ہونے کے بعد حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اپنی کتاب نورالحق حصہ دوم تحریری فرمائی جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ اس نشان سے ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عظیم الشان پیشگوئی پوری ہوئی۔آپ نے اپنے الہام کی روشنی میں یہ بھی وضاحت فرمائی کہ حدیث شریف میں اول ليلة کے جو الفاظ آئے ہیں اس سے مراد چاند گرہن کی پہلی رات یعنی ۱۳ ار رمضان کی رات ہے اور فی النصف کے جو الفاظ آئے ہیں اس سے مرا دسورج گرہن کا درمیانی دن یعنی ۲۸ / رمضان ہے۔چنانچہ گر ہن انہیں تاریخوں میں ہوئے نیز آپ نے اپنی کتاب میں یہ ایمان افروز بات بھی بتائی کہ پیشگوئی کے اول اور نصف کے الفاظ دو طرح سے پورے ہوئے۔ایک تاریخوں کے لحاظ سے۔دوسرے وقت کے لحاظ سے۔وقت کے لحاظ سے اس طرح پورے ہوئے کہ چاند گرہن قادیان میں اوّل رات یعنی رات کے شروع ہوتے ہی ہو گیا اور سورج گرہن قادیان میں دو پہر سے پہلے ہوا۔Calcutta standard time کے مطابق ہندوستان میں چاند گرہن شام کو سات بجے اور ساڑھے نوبجے کے درمیان ہوا اور سورج گرہن دن کو 9 بجے اور ا ابجے کے درمیان۔۔سورج گرہن کے نصف ہونے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں۔یہ قول کہ سورج گرہن اس کے نصف میں ہو گا اس سے یہ مراد ہے کہ سورج گرہن ایسے طور سے ظاہر ہو گا کہ ایام کسوف کو نصفا نصف کر دے گا اور کسوف کے دنوں میں سے دوسرے دن کے نصف سے تجاوز نہیں کرے گا کیونکہ وہی نصف کی حد ہے۔پس جیسا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کیا کہ گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات کو چاند گرہن ہو ایسا ہی یہ بھی مقدر کیا کہ سورج گرہن کے دنوں میں سے جو وقت نصف میں واقع ہے اُس میں گرہن ہو۔سو مطابق خبر واقع ہوا اور خدا تعالیٰ بجزا ایسے پسندیدہ لوگوں کے جن کو وہ اصلاح خلق کے لئے بھیجتا ہے کسی کو اپنے غیب پر اطلاع نہیں دیتا۔پس شک نہیں کہ یہ حدیث پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو خیرالمرسلین ہے ہے۔" الفضل ۱۷ را گست ۱۹۷۳ء نورالحق حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۰۴، ۲۰۵ اردو تر جمه