تاریخ افکار اسلامی — Page 366
تاریخ افکارا سلامی ایمان رکھتا ہے وہ یہ بات ماننے پر مجبور ہے کہ مسلمانوں کے انتہائی تنزل اور نہایت نازک زمانہ میں ایک خاص شان کے موعود نے آنا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ مادی ہتھیاروں سے لیس ہوگا، یا آسمانی اور روحانی حربوں سے کام لے گا، اس کی ایک نظر کفر کی طاقتوں کو تباہ کر دے گی یا سنت انبیا ء اور بالخصوص اپنے سردار اور اپنے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح محنت اور مشقت سعی پیہم اور جہد ائم کے دریا میں سے ہو کر اور طرح طرح کی قربانیاں پیش کر کے کامیابی کی راہیں ہموار کرے گا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے آقا کے بارہ میں فرماتے ہیں۔”ہمارے رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون ہوگا۔وہ افضل البشر ، افضل الرسل والانبیاء تھے جب انہوں نے ہی پھونک سے وہ کام نہیں کئے تو اور کون ہے جو ایسا کر سکے؟ دیکھو آپ نے غار حرا میں کیسے کیسے ریاضات کئے۔خدا جانے کتنی مدت تیک تضرعات اور گریہ وزاری کیا گئے۔تزکیہ کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں اور سخت سے سخت محنتیں کیا کئے۔جب جا کر کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیضان نازل ہوا ملے۔اس سے پہلے آپ صحابہ کی جد وجہد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم کا طرز عمل ہمارے واسطے ایک اسوہ حسنہ اور عمدہ نمونہ ہے انہوں نے تو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے واسطے اپنی جانوں تک کی پروا نہ کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو گئے۔بہر حال جو صاحب فہم حضرات پیشگوئی کی تعبیری زبان کو سمجھتے ہیں اور اُن میں جو تمثیل اور استعارے ہوتے ہیں ان کی حقیقت سے واقف ہیں اور پیشگوئیوں کے بارہ میں ان کا مطالعہ وسیع ہے۔ان پر یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ مذکورہ بالا روایات میں جو زبان استعمال ہوئی ہے وہ اپنے ظاہری معنوں اور سطحی مطالب پر مشتمل نہیں بلکہ اُس کے اندر عرفان کے دریا موجزن ہیں اور عبرت کے سامان پوشیدہ ہیں۔پس ان پیشگوئیوں میں جس عظیم موعود کے آنے کا ذکر ہے اُسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۲۰۱ ملفوظات جلده اصفحه ۲۰۵ مطبوعہ الشركة الاسلامیہ ربوہ