تاریخ افکار اسلامی — Page 326
تاریخ افکارا سلامی FN سے کچھ واسطہ ہے اور نہ عدل عمرانی اور جمہوری اقدار سے کوئی تعلق۔وہ اپنے مفاد اور اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے ہر ظلم روا ر کھتے ہیں اور اپنے اقتدار کو استحکام اور دوام بخشنے کے لئے کسی حربہ کو کام میں لانے سے نہیں چوکتے۔نام جمہوریت کا لیتے ہیں اور رویہ پرلے درجہ کی ظالمانہ آمریت کا اپناتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی پہلے سے بھی زیادہ دکھی ہے اور بے رحم آمریت کے چنگل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔فروغ علم و فن ترقی صنعت و حرفت، اقتصادی بحالی اور قومی اتحاد کا جذ بہ تو دور کی بات ہے عام پبلک تو اپنے بنیادی حقوق تک سے محروم ہے اور ہر قسم کے استحصال کا شکار بنی ہوئی ہے۔موازنہ کر کے دیکھئے جاپان جنگ میں ہار گیا مغربی جرمنی تباہ ہوا لیکن چند سالوں میں ہی اقتصادی اور صنعتی ترقی کے لحاظ سے دونوں ملک فاتح اقوام کو بھی مات دینے لگے۔اس کے بالمقابل افغانستان شروع سے آزاد رہا۔سعودی عرب کسی بدیسی حکومت کے زیر فرمان نہیں رہا۔ترکی اور ایران بھی بڑی حد تک خود مختار رہے لیکن کسی ملک نے نہ علم وفن میں کوئی مقام پیدا کیا اور نہ صنعت وحرفت میں کوئی نام حاصل کر سکا۔یہی حال دوسرے آزاد ہونے والے مسلم ممالک کا ہے غور فر مائے کیا بلحاظ علم وفن ، کیا بلحاظ صنعت و حرفت اور کیا بلحاظ اقتصاد و معاش اقوام عالم میں کسی مسلم ملک کا کوئی مقام ہے؟ حالانکہ جہاں تک مالی وسائل کا تعلق ہے کئی مسلم ممالک اس دولت سے مالا مال ہیں لیکن اپنی بے تدبیریوں اور عیش پرستیوں کے ہاتھوں خود اپنے وسائل سے محروم ہیں اور دوسرے ان کے وسائل سے ترقیات حاصل کر رہے ہیں اور خود مسلم ممالک یا تو اپنی دولت عیش پرستیوں میں تباہ کر رہے ہیں یا پھر آپس کی دشمنیوں اور جنگوں میں غارت کر رہے ہیں اور آزاد ہونے کے باوجود نہ انہیں عالم اسلام کے زوال کی فکر ہے اور نہ دین کے مصائب کی۔کمپ پیٹ کے دھندوں سے مسلم کو بھلا فرصت ہے دین کی کیا حالت یہ اُس کی بلا جانے کب جو جاننے کی باتیں تھیں ان کو بھلایا ہے جب پوچھیں سب کیا ہے کہتے ہیں خدا جانے ( کلام محمود ) اور ان کا حال ایک مدت سے غالب کے اس شعر کے مطابق ہے چلتا ہوں تھوڑی دُور ہراک تیز رو کے ساتھ پہنچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں