تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 308 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 308

تاریخ افکا را سلامی P+A - این کرام افلاک اور کواکب کو غیر فانی مانتا تھا انى يَقُولُ بِقَوْلِ الفَلاسَفَةِ أَنْ أَلَا فَلاكَ وَالْكَوَاكِبَ لَهَا طَبِيعَةٌ خَامِسَةٌ لَا تَقْبَلُ الْفَسَادَ وَالْفَنَاءَ - کرامیہ کا یہ نظریہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے خالق اور رازق ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ پیدا کر سکتا ہے اور رزق دے سکتا ہے۔انى أنَّهُ تَعَالَى لَمْ يَزَلْ خَالِقًا رَازِقًا وَ مَعْنَاهُمَا أَنَّهُ قَادِرٌ عَلَى الْخَلْقِ وَ الرِّزْقِ وَهَكُمَا سَائِرُ صِفَاتِهِ تَعَالَى قَبْلَ ظُهُورها - این کرام کا یہ نظریہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس جسم کو پیدا کیا اُس میں زندگی تھی۔جمادات کی پیدائش اس کے بعد ہوئی ہے اور یہ اس کی حکمت کا تقاضا تھا۔اہل السنت کا نظریہ یہ ہے کہ سب سے پہلے لوح و قلم پیدا ہوئے۔ابن کرام کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسے بچے کو نا بالنھی میں نہیں مارسکتا جس کے بارہ میں اُسے علم ہے کہ یہ بڑا ہو کر نیک اور صالح ہو گا کیونکہ ایسے بچے کو ماردینا اس کے حکیم ہونے کی صفت کے خلاف ہے۔این کرام کا یہ نظریہ بھی تھا کہ نبوت اور رسالت دوسرے ملکات کی طرح ایک ملکہ ہے اور جس میں یہ ملکہ ہوا سے نبی اور رسول بنانا اللہ تعالیٰ پر واجب اور فرض ہے۔اُس کے نز دیک رسول وہ ہے جس میں یہ ملکہ ہو اور مرسل وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس ملکہ کی وجہ سے رسول بنا کر بھیجے۔مُرسل وفات کے بعد صرف رسول رہ جاتا ہے اور اس کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے اس لئے اُس کی قبر کی زیارت کے لئے جانا اور اسے ثواب سمجھنا بے معنی بات ہے۔ابن کرام کی رائے تھی کہ نبی اور رسول ایسی غلطیوں سے نمبر اور معصوم ہوتے ہیں جن کی سزا محمد ہے یا جس کے ارتکاب سے انسان درجہ عدالت اور قبول شہادت سے گر جاتا ہے۔دوسری قسم کی غلطیاں نبی سے سرزد ہو سکتی ہیں۔اسی قسم کی غلطی (والعیاذ بالله ) انحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس وقت ہوئی جبکہ آپ سورۃ النجم کی تلاوت کر رہے تھے اور آپ نے وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأَخْرى کی حلاوت کی تو معابعد ہی آپ تلک الغَرَائِيقُ العُلى وَإِنْ شَفَاعَتَهُنَّ لَمرتجى كے الفاظ بھی کہہ گئے۔کرامیہ کا یہ نظریہ اہل السنت کے نظریہ کے خلاف ہے کیونکہ اہل السنت کے نزدیک انبیا ء ہر لحاظ سے معصوم ہوتے ہیں۔ل أَي لَا يَتَعَلَّقُ بِالْحُسَبِ وَ مَا لَا يَكُونُ بِحَسَبِهِ لَا يَكُونُ لَهُ عَلَيْهِ آجر (نفس المصدر صفحه ۲۱۳)