تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 306 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 306

P+1 تاریخ افکا را سلامی میں کوتا ہی کرنے والے کا معاملہ آخرت میں طے ہو گا یعنی اس کوتا ہی کے مرتکب کو اللہ تعالیٰ سزا دیتا ہے یا معاف کرتا ہے اس کا فیصلہ وہاں ہوگا۔اس قسم کے نظریات کی وجہ سے ایسے لوگوں کو مرجنہ کا نام دیا گیا۔اتى أَنَّهُمْ أَخَرُوا الْعَمَلَ عَنِ الْإِيْمَانِ وَالْإِرْجَاءِ بِمَعْنَى التَّاخِيْرِ - مرجنه کی تین قسمیں ہیں ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ ایمان تصدیق بالقلب اور اقرار باللسان کا نام ہے۔رہے اعمال تو ایمان سے ان کا کوئی خاص تعلق نہیں۔عمل کرے یا نہ کرے ایمان پر اس کا کوئی اثر مرتب نہ ہوگا نیز eir انسان اعمال میں مختا را در آزاد ہے جیسے معتزلہ قدریہ مانتے ہیں۔دوسرے گروہ کا نظریہ ایمان کی تعریف کے بارہ میں وہی ہے جو پہلے گروہ کا ہے لیکن وہ اعمال اور افعال میں انسان کو مینار اور آزاد نہیں مانتا بلکہ مجبور سمجھتا ہے جیسا جبریہ کا نظریہ ہے۔تیسرا گرد وہ ہے جوقد ر اور جبر کا قائل نہیں نہو و قدریہ سے متفق ہے اور نہ جبریہ سے تا ہم یہ اعمال کی وہ اہمیت تسلیم نہیں کرتا جو ایمان کی ہے۔ایمان نہ ہو تو نجات ممکن نہیں لیکن اگر عمل نہ ہو یا عمل میں کوتا ہی ہو تو نجات ممکن ہے۔اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسے شخص کو معاف کر دے اور اُسے جنت میں لے جائے نیز اس گروہ کا یہ نظر یہ بھی ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا نہیں اور نہ اس میں فرق مراتب ہے أَتَى إِنَّ الْإِيْمَانَ لَا يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ وَلَا يَتَفَاضَلُ النَّاسُ فِيهِ۔اس نظریہ کو اپنانے کی وجہ سے بعض نے حضرت امام ابو حنیفہ کو بھی مرحلہ کہا ہے جبکہ عام محد ثین کا نظریہ یہ ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ اور جزو ہیں اور الإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ وَيَتَفَاضَلُ النَّاسُ فِيهِ الْكَرَامِیہ اور اُس کے نظریات یہ فرقہ ابو عبد اللہ محمد بن کرام سجستانی (المتوفی ۲۵۵ھ) کا پیرو تھا۔اس فرقہ کے کئی ذیلی گروہ ہیں مثلا حَقَائِفِيهِ، طَرَائِقيه، اسحاقیه - یہ سب ضمنی گروه بعض اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو تفصیل کے لئے دیکھیں الفرق بين الفرق صفحه ۱۵۱ تا ۱۵۵ نیز اعتقادات فرق المسلمين والمشركين صفحه ۷۱،۷۰)