تاریخ افکار اسلامی — Page 268
تاریخ افکا را سلامی MA علمی لحاظ سے احسن اس بات کی دعوت دیتا تھا کہ حقیقت باطنیہ تک پہنچنے کے لئے امام کا ہونا ضروری ہے اور جب امام مستور ہو تو پھر اُس کا نائب مَصْدَرِ عرفان ہوتا ہے اور اس وقت وہ خود نائب امام اور مصد رعرفان ہے۔خلافت عباسیہ نے جب الحسن کی تحریک کا خطرہ محسوس کیا تو علمی میدان میں سنی علماء کو آمادہ کیا کہ وہ اس تحریک کی مخالفت میں علمی دلائل مہیا کریں اور عمدہ کتابیں لکھیں چنانچہ جن علماء نے اس میدان میں کام کیا ان میں امام غزالی سر فہرست ہیں۔آپ نے احسن صباح کی باطنی تحریک کے رد میں ایک کتاب لکھی جس کا نام "المستظهری رکھا اور ایک کتاب "المنقذ من الضلال میں بھی اس تحریک کے خلاف علمی دلائل مہیا کئے۔المحسن الصباح نے اپنی جماعت کو کئی حصوں میں تقسیم کیا اور رابطہ کے لحاظ سے انہیں باہمی محبت ،اخوت اور مرحمت کا نصب العین دیا۔ایک گروہ کے ذمہ علمی میدان میں کام کرنا تھا دوسرے گروہ کو بطو ر فدائی اور خفیہ طور پر امراء اور علماء کوقتل کرنے کی تربیت دی گئی۔یہ فدائی بڑی رازداری، انتہائی احتیاط اور بڑی جرات کے ساتھ اپنے نشانہ پر وار کرتے تھے او راس بات سے بالکل بے نیا ز ہوتے تھے کہ اس راہ میں ان کی جان چلی جائے گی یا وہ بچ نکلیں گے۔ان فدائیوں کو مختلف انداز میں تیار کیا جاتا تھا۔ایک گروہ کو بھنگ کی عادت ڈالی جاتی تھی یا کسی اور طریق سے اُس کے ذہن پر قابو پایا جاتا تھا او رانہیں یہ تربیت دی جاتی تھی کہ جو فرض ان کے سپرد کیا جائے بہر حال انہوں نے اُسے سرانجام دینا ہے۔بھنگ کے ذریعہ یا عمل تنویم کے ذریعہ ان کو مد ہوش کر کے انتہائی خوبصورت باغوں میں لے جایا جاتا جو پہاڑی قلعوں کے اردگرد کے چشموں کے پانی سے سیراب ہوتے تھے۔ان باغوں میں محل نما مکانوں میں ہر قسم کی نعماء نعمه سرد داور خوبصورت عورتوں اور حسین لڑکوں سے مزین رکھا جاتا ہے اور جن فدائیوں کو ان میں لایا جاتا ان کو کہا جاتا کہ یہ جنتیں اُن کو ملتی ہیں جو امام یا نا ئب امام کے حکم کی دل و جان سے اطاعت کرتے اور اپنی جان کی قربانی پیش کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں کچھ عرصد ان باغوں اور محلات میں ان کو ا كانوا ينشأون حول القلاع الحدائق الفيحاء وقد غرست فيها اطيب الفواكه وازكى الازهار۔۔۔۔وغـصـت بـالـغـيـد الـكـواعـب يـطـفـن بـاقـداحٍ ذَهَبيَّة من الخمر والحَانِ الموسيقى الشَّجيعية - الجميعات السرية صفحه ۵۳ ملخصا)