تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 250 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 250

تاریخ افکا را سلامی ۲۵۰ ۹۔اسماعیلیہ معروف معنوں میں قیامت اور حشر و نشر کو نہیں مانتے اور نہ جنت و دوزخ کے قائل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ قیامت سے مراد خروج الامام قائم الزمان ہے جو ایک نئے دور کا آغاز کرتا ہے اور ساتویں درجہ پر ہوتا ہے اور معاد سے مراد یہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اُس کی ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹا دی جاتی ہے مثلا انسان روحانی اور جسمانی عناصر سے مرکب ہے اور جسمانی عناصر چار ہیں الصفراء السوداء البلغم اور الدم۔صفراء ناری عصر ہے اس لیے آگ کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔سوداء ارضی عصر ہے اس لیے وہ تراب یعنی مٹی بن جاتا ہے۔بلغم مائی عنصر ہے اس لیے وہ پانی میں جا شامل ہوتا ہے اور الم ہوائی عصر ہے اس لیے وہ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔رہا انسان کار و حافی پہلو تو وہ روح یعنی النفس المدرکہ ہے۔اگر وہ فضائل سے مزین ہے تو وہ عالم روحانی میں جا شامل ہوگا اور آیت کريم ياتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبَّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ میں اسی روحانی عالم کی طرف رجوع اور صعود کا اشارہ ہے اور اگر روح یعنی نفس مدرکہ رزائل اور عیوب میں ملوث ہے تو پھرا سے مختلف جونوں کے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہتا ہے۔۱۰۔بعض اسماعیلی انیس کے عدد کو بڑی اہمیت دیتے ہیں مثلاً ان کا کہنا ہے کہ ہر دور میں سات امام ہوتے ہیں اور بارہ داعی اور ان کا مجموعہ انیس ہے۔اسی طرح ہر دعامہ کے سات فرائض ہیں اور بارہ سنتیں اور ان کا مجموعہ انیس ہے۔اس نظریہ نے فاطمی خلیفہ المستعصر کے زمانہ میں فروغ حاصل کیا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی وفات کے بعد المستعصر اسماعیلیہ کے نزدیک انیسواں امام تھا۔کے غرض اسماعیلی قیادت نے بعض اسلامی ایمانیات کے ساتھ یونانی فلسفہ مجوسی اور ہندی تصورات، یہودی اور عیسائی مسلمات کی آمیزش کر کے اپنے عقائد و نظریات کو ترتیب دیا اور اُن کے لیے فلسفیانہ ل الفجر : ۲۹،۲۸ فانها تبقى أبد الدهر يتناسخها بالابدان۔وفى الحقيقة إنَّ السَرِيَّة غمرت الدعوة الاسماعيلية نى التبس امرها على المؤرخين فلم يستطيعوا على حقيقة القائمين بها (تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۱۹۲ و ۱۹۶) لم ينفرد فلاسفة الاسماعيلية باتخاذ الاعداد اصولاً لدينهم فقد اتخذ الفيثا غوريون من كل عدد اصلا لدراساتهم (تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۵۰۰)