تاریخ افکار اسلامی — Page 244
تاریخ افکا را سلامی ۲۴۴ رازداری کے ساتھ اپنی دعوت کو پھیلاتے رہے۔اسماعیلی شیعوں کی خفیہ تحریک کا یہ ایک پہلو ہے۔اس کا دوسرا پہلو جسے اکثر سنی اور کئی شیعہ اور خود اسماعیلیوں کا کچھ حصہ بیان کرتا ہے اور اس میں عباسیوں کی کوشش کا دخل بھی ہے وہ یہ ہے کہ دراصل ہے اسمعیل بن امام جعفر صادق نوجوانی میں لاولد فوت ہو گئے تھے۔ان کا ایک مولیٰ تھا جس کا نام میمون بن دیصان القداح تھا۔یہ شخص بڑا ذہین، صاحب علم اور انتہائی ہوشیار تھا۔ہوا ز فارس کا رہنے والا تھا۔اوپر سے مسلمان تھا لیکن اندر سے شنوی اور مجوسی تھا اور اسے بہ بڑا رنج تھا کہ عربوں نے ان کے ملک کو فتح کر کے اپنا تابع فرمان اور غلام بنالیا ہے۔وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ اس کے ملک معینی فارس و خراسان کے لوگ کھلم کھلا عربوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اسی زمانہ میں امویوں کے خلاف علویوں اور عباسیوں کی خفیہ تحریک بھی چلی تھی۔اسی انداز پر اس نے بھی عربوں اور ان کے دین یعنی اسلام کے خلاف اپنی ایک خفیہ تحریک کو منظم کیا اور کامیابی کے لئے آل بیت رسول کے نام کو استعمال کرنے کا پروگرام بنایا اور وہ یوں کہ اس نے امام اسمعیل کی نسل کے جن ائمہ مستورین کا ڈھونگ رچایا وہ دراصل اس کی اپنی نسل کے لوگ تھے چنانچہ اُس نے یہ ظاہر کیا کہ امام اسمعیل کا ایک بیٹا ہے جس کا نام محمد ہے لیکن لوگوں کے سامنے اسے اس لئے نہیں لایا جاسکتا کہ حکومت کی طرف سے گرفت کا خطرہ ہے۔یہ در حقیقت اس کا اپنا بیٹا عبداللہ تھا۔میمون کا بیٹا عبد اللہ بھی بڑا عالم ، ذہین اور بڑی تنظیمی قابلیتوں کا مالک تھا۔عبداللہ نے مختلف جگہوں میں پھرتے پھراتے اور اپنے حامیوں کو منظم کرتے۔آخر کار سلمية کو مرکز دعوۃ بنایا او راسماعیلی مذہب کے اصول و عقائد کو مرتب کیا اور ان کو ترویج دی۔اُس نے ان تعلیمات کے سات درجے مقرر کئے جو آن محمد بن اسماعيل فر إلى الرى ومنها الى دماوند وسار أَبْنَاءهُ على مِنْوَالِهِ فَاخَتَفَوا في خراسان وفي اقليم قندهار وفي السند واخذ دعاتهم يجولون البلاد لجذب الاشياع اليهم (الدولة الفاطمية صفحه ۳۹ تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۷۵ بھی دیکھیں) تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۷۷ تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۷۶ ۲۲۷، ۴۰۹ قال المقريزى كان عبدالله عالما بجميع الشرائع و السنن والمذاهب و دعوته إلى إمَامَةِ اسمعيل بن جعفر الصادق كانت لحيلة الْخَلَهَا لِيَجْمَع حَوْلَهُ أنصَارًا ووَسِيلَةٌ لتنفيذ اغراضه وهي تكوين دولة فارسية (تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۴۰ ملخصا )