تاریخ افکار اسلامی — Page 220
تاریخ افکا را سلامی بیٹا امام موسی الکاظم امام ہونا چاہیے۔چنانچہ شیعہ اثنا عشریہ نظریہ بداء کے تحت ہی اسمعیل کی بجائے موسیٰ الکاظم کو ساتو اں امام مانتے ہیں۔اثناعشری شیعوں نے بداء کے اس نظریہ سے متعدد بار کام لیا۔اس نظریہ کا اصل موجد مختار ثقفی تھا وہ اپنے پیروؤں کے سامنے کوئی پیشگوئی کرنا اور اگر وہ پوری نہ ہوتی تو کہتا خدا نے ” اصول بداء کے تحت اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔اس نظریہ کی بنیا د آیت کریمہ وبدَ الَهُم مِّنَ اللهِ مَالَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ اور تمحوا اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَ عِندَنَ أم الكتب قائم " کی گئی ہے۔جہاں تک وعید اور تقدیر شر کا تعلق ہے ایسی تبدیلی کو قریبا سارے مسلمان تسلیم کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ دعا اور صدقات سے تقدیر شرمل سکتی ہے۔خوشخبری اور تقدیر خیر کے بدل جانے کے نظریہ کو صرف شیعہ حضرات مانتے ہیں۔المتعة - شیعہ کے نزدیک متعہ جائز ہے۔متعہ کے معنے یہ ہیں کہ جنسی تسکین کے لئے کچھ معاوضہ دے کر ایک معین مدت کے لئے مرد اور عورت کا جنسی تعلقات کے لئے معاہدہ کر لینا۔اسلام سے پہلے اس قسم کے وقت نکاح کا عرب میں رواج تھا۔اکثر اہل اسلام کے نز دیک اسلام نے اس قسم کے نکاح کی ممانعت کر دی تھی لیکن شیعہ مسلک یہ ہے کہ اسلام میں اس کی ممانعت نہیں ہے۔تفصیل شیعہ فقہ کی کتب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ہے مجالس عزاء - یوم عاشورہ کی تقاریب منانا شیعہ اثنا عشریہ کے مذہبی دستور العمل اور پالیسی کا ایک حصہ ہے اس کا مقصد ان مظالم کی یاد کو تازہ رکھنا ہے جو ائمہ اہل بیت پر روا ر کھے گئے۔تشیع کے فروغ اور عوام میں اس کو مقبول بنانے کے لئے اسے بڑا مفید تر یہ سمجھا گیا ہے۔مجالس عزاء کے انعقاد کی بڑی لمبی تاریخ ہے۔ایک خاص قسم کی ادبی نیج یعنی مرثیہ گوئی کے فن کو بھی اس سے بہت فروغ ملا ہے۔ھے - الزمر : ۱۸ - الرعد: ۴۰ ٣۔اصل الشيعة واصولها صفحه ۱۹۳ - فرق الشیعه صفحه ۶۵۰۶۴ اصل الشيعة واصولها صفحه ۹۴ و ۱۱۵ الشيعة في التاريخ صفحه ١٦٦ - امثال الميداني صفحه ۳۲۹