تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 210 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 210

تاریخ افکا را سلامی M+ چنانچہ آپ نے بعض اوقات شعر کے ذریعہ اس قسم کی مشکلات کا ذکر فرمایا۔مشہور ہے کہ آپ بطور تمثیل یہ شعر بکثرت پڑھتے۔إِنْ كَانَ رَفضًا حَبُّ آلِ مُحَمَّدٍ فَلْيَشْهَدِ القَلانِ آتِي رَافِضِي شیعہ روایات میں وصیت کی دلیل کا ذکر پہلی بار۳۰۰ھ کے بعد حضرت امام جعفر کی طرف منسوب چند روایتوں میں آیا ہے۔انہوں نے بھی کسی روایت میں یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ واقعہ کس ذریعہ سے اُن تک پہنچا ہے۔نیز ان سے بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کو یہ تاکید کر دی تھی کہ وہ کسی سے اس وصیت کا ذکر نہ کریں۔اس راز کے انکشاف کے پہلے مجاز حضرت امام جعفر صادق بیان کئے گئے ہیں لے پس جو وعیت ایسی ہے جس کا دوسروں کو علم ہی نہیں اور جن قریبی لوگوں کو علم ہے ان کو انکشاف کی اجازت نہیں وہ وصیت دوسرے لوگوں کے لئے حجت کیسے ہو سکتی ہے؟ پھر جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے اور واقف حال لوگ جانتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق کی طرف اتنی متضاد روایات منسوب کی گئی ہیں کہ اعتبار کی کوئی بنیا دہی باقی نہیں رہتی اور اس قسم کے تضاد کی بناء پرمحققین نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ متعد د مفاد پرست عناصر آپ کے نام سے فائد ہ اٹھا کر آپ کی طرف منسوب کر کے ایسی غلط باتوں کو رواج دیتے رہے جن کی اسلام میں کوئی اصل نہیں بلکہ و ہا تیں اسلامی احکام کے صریح خلاف ہیں ہے خود شیعہ حضرات کی اکثریت بھی بالعموم صحیح معنوں میں دمیت کے عقیدہ پر قائم نہیں رہی۔کوئی پہلے امام کو ہی مہدی مانتا تھا، کوئی تیسرے امام پر بس ہو گیا۔کوئی چوتھے پانچویں وغیرہ کو آخری امام مانتا تھا اور شیعہ اثنا عشریہ بارہویں امام پر آکر رہ گئے اور اُس کو زندہ ، غائب اور مہدی منتظر اصول الكافي للكليني جلد ۲ صفحه ۲۷۸ مرتبه ثقة الاسلام ابو جعفر محمد بن يعقوب - الكليني المتوفى ۳۲۹ - دار الكتب الاسلاميه تهران طبع ثالث -۱۳۸۸هـ اثبات الوصية صفحه ۱۲۱ علامه ابو الحسن على بن الحسين المسعودى المتوفى ٣٣٦ مكتبه بصير في قم ایران طبع خامس۔دعائم الاسلام صفحه ۶۴٠۶۳ - ابو حنيفة النعمان بن محمد المغربي الشيعي الاسماعيلي دار المعارف مصر ۱۹۵۱ء۔اصول الکافی جلد اول صفحه ۲۸۸