تاریخ افکار اسلامی — Page 170
تاریخ افکا را سلامی 12+ حضرت امام ابن تیمیه امام تقی الدین ابو العباس احمد بن شہاب الدین عبد الحلیم ۲۶۱ ھ میں حسران میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد اپنے زمانہ کے مانے ہوئے عالم اور محدث تھے اور حرانی کہلاتے تھے۔امام صاحب کی ایک دور کی جملہ کا نام تیمیہ تھا جس کی طرف نسبت کی وجہ سے ان کی کنیت ابن تیمیہ مشہور ہوئی اور اسی کنیت سے آپ معروف ہیں۔امام ابن تیمیہ کا قد درمیانہ، رنگ سفید ، کالی گھنی داڑھی ، سینہ چوڑا ، آنکھیں بڑی بڑی غرض آپ بڑی دلنواز پسنجیدہ اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔آپ کا گھرانہ بڑی علمی عظمت رکھتا تھا اور اپنے علاقہ حران میں جو شام کا ایک حصہ تھا بڑا اثر و رسوخ اور دینی قیادت کا شرف رکھتا تھا۔یہ دور سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کے لئے بڑے اضطراب اور خلفشار کا باعث تھا کیونکہ تاتاریوں کے ہاتھوں مرکز خلافت بغدادتباہ ہو چکا تھا اور اب ان کا رُخ شام کی طرف تھا۔انہی تا تاری حملوں کے خوف سے ابن تیمیہ کا خاندان حران سے ہجرت کر کے دمشق میں آبسا تھا۔اس وقت ابن تیمیہ کی عمر سات سال تھی۔دمشق اس زمانہ میں مجمع العلماء تھا کیونکہ حُرُوبِ صلیبیہ کے دوران فلسطین کے علماء بھاگ کر دمشق آگئے تھے۔اس کے کچھ عرصہ بعد تا تاری حملوں کی وجہ سے عراق اور مشرقی علاقوں کے کئی علماء بھی دمشق آگئے اور بعض مصر کی طرف نکل گئے۔بہر حال دمشق کے علمی ماحول میں ابن تیمیہ نے پرورش پائی۔والد دمشق کی جامع مسجد کے واعظ اور اُس کے ایک مدرسہ کے معلم تھے۔ابن تیمیہ نے بھی اس علمی ماحول سے اثر لیا۔آپ نے پہلے قرآن کریم حفظ کیا جو اس زمانہ کا دستور علمی تھا۔اس کے بعد مروجہ علوم کی تھا۔طرف توجہ مبذول کی۔قابل اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔حدیث آپ کا بڑا پسند یدہ موضوع تھا۔چنانچہ اُس زمانہ کے مشہو را ساتذہ سے کسب حد بیث پڑھیں۔صحاح ستہ کے علا وہ مسند احمد بن حنبل بھی سبقتا پڑھی اور اس مضمون کا وسیع مطالعہ کیا۔فقہ الحدیث میں بھی مہارت حاصل کی۔جب آپ کی عمر ۲۱ سال کی تھی کہ آپ کے والد ماجد فوت ہو گئے لیکن آپ کی والدہ نے