تاریخ افکار اسلامی — Page 155
تاریخ افکا را سلامی ۱۵۵ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑے لائق شاگرد اور مخلص دوست عطا کئے تھے بغداد میں بھی اور مصر میں بھی۔بغداد کے شاگردوں نے فارس ، خراسان اور ماوراء النہر میں آپ کے مسلک کی اشاعت کی۔یہاں حنفیت کا زور تھا جس سے سخت مقابلہ رہا۔سلطان محمو دغز نو می فقہ میں آپ کا پیر و تھا۔آج بھی ایران کے منی کردوں کی اکثریت آپ کے فقہی مذہب کو مانتی ہے۔امام شافعی کے شاگر داور پیرو مشرق میں آپ کے شاگردوں نے بڑا نام پایا اور ان کو علمی خدمات کا موقع ملا۔خاص کر امام احمد بن حنبل تو مستقل مسلک کے امام بنے۔الزغفرانی کے ذریعہ آپ کی کتب بغدادیہ ان علاقوں میں عام ہوئیں علاوہ ازیں سینکڑوں عالمی شہرت کے علماء آپ کے فقہی مسلک سے وابستہ تھے مثلاً امام الحرمین عبد الملک بن عبد الله الجوینی، حجۃ الاسلام امام محمد الغزالی، علامہ فخر الدین الرازي، ابو حامد الاسفر ائينى ، تقی الدین السیکی، علامہ الماوردی صاحب الاحکام السلطانیہ، سلطان العلماء علامہ عز الدین بن عبد السلام ابن دقیق العیہ ،نظام الملک طوسی اورعلامہ نووی شارح صحیح مسلم سبھی شافعی المذہب تھے اور ان کی وجہ سے آپ کے فقہی مسلک کو بہت فروغ ملا۔امام شافعی کا ایک مناظرہ امام شافعی قوت استدلال و مناظرہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ایک دفعہ امام محمد بن حسن شیبانی نے آپ کو چھیڑا اور کہا سنا ہے آپ غصب کے مسئلہ میں ہمیں غلط سمجھتے ہیں۔پہلے تو شافعی نے معذرت کی اور ٹالنا چاہا کیونکہ امام محمد کا آپ کے دل میں بڑا احترام تھا یوں بھی آپ بحث سے بچتا چاہتے تھے لیکن حقی ایسے بحث و مباحثہ کو پسند کرتے تھے ان کانظر یہ تھا کہ بحث سے علم بڑھتا ہے اور مسئلہ کھل کر سامنے آجاتا ہے۔بہر حال جب امام محمد نے اصرار کیا تو جوابی بحث کے لئے تیار ہو گئے۔غصب کے بارہ میں حنفیوں کا مسلک یہ ہے کہ: - اگر تو غصب شدہ چیز جوں کی توں ہے تو وہ غاصب سے واپس لے کر مالک کو دلائی جائے گی۔- اگر وہ چیز ضائع ہوگئی ہے تو اس کی قیمت دلائی جائے گی۔الامام الشافعي صفحه ۲۹۹۲۹۸،۲۰۲