تاریخ افکار اسلامی — Page 144
تاریخ افکار را سلامی ۱۴۴ انہوں نے عقد بیعت تو ڑا تو ان کی ساری بیویوں کو طلاق ہو جائے گی اور آئندہ ساٹھ سال تک جو نکاح بھی وہ کریں گے وہ بھی طلاق کی زد میں آئے گا نیز ان کے سارے غلام آزاد اور ساری دولت صدقہ ہوگی۔غرض عباسی اس قسم کی عجیب و غریب قسمیں جبڑا لیا کرتے تھے۔امام مالک سے کسی نے ایسی قسموں کی شرعی حیثیت کے بارہ میں مشورہ پوچھا تو آپ نے کہا کہ شرعا تو ایسی قسم لغو ہوتی ہے۔مدینہ کا عباسی والی خاصہ نا سمجھ تھا۔اُس نے حکمت عملی سے کام لینے کی بجائے سختی کا۔، طریق اختیار کیا اور امام مالک کو تعمد دکا نشانہ بنایا۔جب منصور کو اس کی اس بے وقوفی کا پتہ چلا تو اُسے سخت افسوس ہوا اور وہ اس احمقانہ حرکت کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش میں رہا کیونکہ او پر کی سطح پر تو خلفاء کا منشا یہ تھا کہ علماء کا تعاون حاصل کیا جائے اور تشد د کی اس طرح کی پالیسی اس کے خلاف تھی۔بہر حال حج کے دنوں میں منصور کو اس کا موقع مل گیا۔منصور نے امام مالک کو پیغام بھجوایا کہ مجھے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں آپ حج کے بعد مجھ سے ملیں۔چنانچہ ملاقات ہوئی دوران ملاقات منصور نے بڑی معذرت کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ نہ میں نے ایسے تشدد کا حکم دیا ہے اور نہ اس کا مجھے علم تھا اور جب پتہ چلا تو والی پر جو میرا رشتہ دار ہے سخت ناراض ہوا۔ننگے اونٹ پر بٹھا کر اُسے بغداد منگوایا اور میرا ارادہ ہے کہ اُس سے اُس زیا دتی کا بدلہ لوں۔آپ نے فرمایا امیر المومنین ایسا نہ کریں وہ آپ کے رشتہ دار ہیں، اہل بیت سے ہیں میں نے ان کو معاف کر دیا ہے ، آپ بھی انہیں معاف کر دیں۔منصور پر آپ کی اس فراخ دلی کا بڑا اثر ہوا اور معذرت کے انداز میں کہا۔آپ جیسے لوگ حرمین شریف یعنی مکہ اور مدینہ میں بطور تعویذ کے ہیں۔یہاں کے لوگ بہت جلد شر پسندوں کے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔آپ جیسے حضرات ان کو سمجھا سکتے ہیں، آئندہ کے لئے میں آپ کو اختیار دیتا ہوں کہ جب بھی آپ کو پتہ چلے کہ مدینہ منورہ یا حجاز کے والی نے کوئی کام انصاف کے خلاف کیا ہے اور وہ ظلم کا مرتکب ہوا ہے تو آپ اس کی مجھے ضرور اطلاع دیں، والی کو فورا معزول کر دیا جائے گا۔امام مالک پر منصور کے اس سلوک کا بہت اچھا اثر ہوا۔↓ خلفاء عباسیہ مسلسل ان تعلقات کو بڑھاتے رہے وہ مختلف قسم کے تحائف اور جوائز آپ کی ليس على المكره يمين و طلاق المكره لا يجوز