تاریخ افکار اسلامی — Page 120
تاریخ افکا را سلامی اختیار کیا تھا۔آپ نے ممکنہ مسائل زندگی کا جائزہ لے کر اور ان کے بارہ میں سوالات ترتیب دے کر قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور اصول استخراج کی مدد سے ان سوالات کے جواب تلاش کئے اور انہیں مدون کرایا تا کہ ضرورت کے وقت ارباب علم ان جوابات سے مدد لے سکیں۔اس طرح آپ کے شاگردوں کی کوشش اور آپ کی رہنمائی سے فقہ تقدیر" یا "فقہ فرضی کا ایک بہت بڑا + ذخیرہ مہیا ہو گیا۔یه اند از تدوین دوسرے ائمہ اور علماء کو پسند نہ تھا۔اس وجہ سے آپ پر اعتراض بھی ہوئے۔سخت تنقید میں بھی ہوئیں لیے ان کی رائے تھی کہ جب کوئی واقعہ سامنے آئے اور عملاً اس سے سابقہ پڑے تو پھر اس کے حل کی کوشش ہونی چاہیے اور جواب تلاش کرنا چاہیے۔پہلے سے امکانی سوال گھڑ گھڑ کر یا فرضی صورتیں بنا بنا کر ان کے جواب تلاش کرنے کی کوشش ایک بدعت اور نقصان کا باعث ہے لیکن آپ کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ نیک نیتی ، علم کی ترقی اور تصقیل ذهنی کے لیے کیا گیا ہے اور بعد میں قریباً تمام ائمہ کے شاگردوں نے تدوین کے اس نیج کو اپنایا اور فقہ کے بڑے بڑے دائرۃ المعارف تیار ہوئے۔مُدَوَّنَهُ سَخنون جو ۳۶ ہزار مسائل پر مشتمل مالکی فقہ کی کتاب ہے۔اسی طرح المختصر الكبير لابن عبد الحكم “ مغنی لابن قدامة “ اور محلی ابن حزم اس کی بہترین مثالیں ہیں اور فقہی مسائل کے بہت بڑے ذخیرہ پر مشتمل ہیں۔امام ابوحنیفہ اور تدوین کتب امام ابو حنیفہ نے بذات خود کوئی بڑی کتاب نہیں لکھی۔بعض چھوٹے چھوٹے رسائل آپ کی طرف منسوب ہیں جیسے" الفقه الانخبر جس میں عقائد کا ذکر ہے سابُ الْعَالِمِ وَالْمُتَعَلَّم" جس میں آداب تعلیم کا بیان ہے آپ کا ایک خط اس زمانہ کے ایک مشہور عالم عُمَانُ اللیثی کے نام قال الشعبي مرة احفظ على ثلاثة اذ سئلت عن مسئلة فاجبت فيها فلا تتبع مسئلتك أرأيت فان الله قال في كتابه "أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَهُ (الآية)۔والثانية اذا سئلت عن مسئلة فلا تقس شَيْئًا فربما حللت حراما و حرمت حلالا۔والثالثة۔اذا سئلت عما لا تعلم فقل لا اعلم۔۔۔۔۔و كان مالک۔بستى اهل العراق اى الحنفيه الأريتيين (مالك بن انس صفحه ۱۱۳) ابو حنيفه صفحه ۶۴ و ۱۸۳