تاریخ افکار اسلامی — Page 115
تاریخ افکا را سلامی ۱۱۵ رسم و رواج عرف اور عادات الناس کے مطالعہ کا خوگر۔غرض آپ کا مدرسہ مختلف استعدادوں کے حامل ارباب علم کا مرکز تھا۔طلبہ کو مختلف مسائل کے بارہ میں سوال اٹھانے اور بحث میں حصہ لینے کی کھلی اجازت تھی۔ہر رائے پر خواہ وہ استاد کی رائے ہو تنقید ہوتی تھی۔آخر بحث مباحثہ اور علمی تحقیقات کے بعد جب کسی مسئلہ کا حل نکل آتا اور کوئی رائے قائم ہو جاتی اور بات طے کر لی جاتی تو اسے مناسب سیاق و سباق کے ساتھ لکھ لیا جاتا اور رات گئے تک درس و تدریس کا یہ سلسلہ جاری رہتا صرف نماز کا وقفہ ہوتا ہے علمی وسعت کے ساتھ ساتھ امام ابو حنیفہ بڑے غنِيُّ النَّفْس اور سَخِيُّ الطَّبع بزرگ تھے۔آپ جس قدر مالدار تھے اتنے ہی زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے بھی تھے۔اپنے شاگردوں پر دل کھول کر خرچ کرتے ان کی ضرورتوں کا ہمیشہ خیال رکھتے۔امام ابو یوسف کے والد بڑے غریب ، تنگ دست اور مزدوری پیشہ بزرگ تھے۔انہوں نے اپنے بیٹے سے ایک بار کہا ابو حنیفہ کے درس میں جانے کی بجائے کوئی کام کرو تا کہ چار پیسے آئیں اور گھر کا گزارا چلے۔چنانچہ والد کے اصرار پر آپ نے حلقہ درس میں جانا چھوڑ دیا اور درزی کا کام شروع کر دیا۔امام ابوحنیفہ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے ابو یوسف کو بلا کر حالات دریافت کئے اور ان کا معقول وظیفہ مقرر کر دیا اور پھر ہمیشہ ان کی ضروریات کا خیال رکھا۔دوسرے ضرورتمند طلبہ کے بارہ میں بھی آپ کا یہی طریق تھا۔آپ چاہتے تھے کہ قابل ذہن غربت کی وجہ سے ضائع نہ ہونے پائے اور علم کے زیور سے محروم نہ رہ جائے۔چنانچہ امام ابو حنیفہ کے مدرسہ کے پروردہ بعد میں عظیم الشان مناصب پر فائز ہوئے اور آسمان علم کے ستارے اور سورج بن کر چمکے۔غرض حضرت امام ابو حنیفہ کو اللہ تعالیٰ نے دین و دنیا علم و مال کی دونوں دوستیں وافر مقدار میں بخشی تھیں جن کی تقسیم میں آپ نے کبھی بھی بھل سے کام نہ لیا۔علم کی دولت بھی لٹائی اور دنیا کی نہ دولت سے بھی دوسروں کو مالا مال کیا ہے ابو حنیفه صفحه ۱۶۴ كان ابو حنيفه يعطى و يقول انفقوا في حوائجكم ولا تحمدوا إِلَّا الله سبحانه وتعالى فانها ارباح بضائعكم مما يجرى الله لكم على يدى (ابو حنیفه صفحه ۹۸ و ۱۰۱)