تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 96 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 96

تاریخ افکار را سلامی ایک بات کو اچھا اور مفید سمجھتا ہے اور دوسرا دوسری بات میں بھلائی دیکھتا ہے اس طرح تو شریعت ایک کھیل بن جائے گی اور ظالم حکام دین اور شریعت کے نام پر اپنی خبیث اغراض کی تکمیل کی کوشش کریں گے لیے لیکن امام شافعی کا یہ اعتراف استحسان کے اصول کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔اچھا سمجھنے کا اصول بعض شرائط کے ساتھ مشروط ہے کیونکہ یہ سبھی مانتے ہیں کہ شریعت نے اپنے احکام میں مصلحت اور پبلک مفاد کو مد نظر رکھا ہے اور جن مسائل کے بارہ میں کوئی واضح نص نہیں ان میں بھی اس اصول کو مد نظر رکھا جانا چاہیے کہ مصلحت اور پبلک مفاد کے مطابق ان کا حکم ہونا چاہیے اور اسی کا نام استحسان ہے۔البتہ مصلحت کے بارہ میں یہ مد نظر رہنا چاہئے کہ مصلحت وہی معتبر ہے جو مقاصد شریعت کے مطابق ہوا اور شارع نے کسی نہ کسی جگہ اسے اختیار کیا ہو یہی مصلحت ہے جس پر اصول استحسان مینی ہے۔اگر استحسان کے بارہ میں اس شرط کو مد نظر رکھا جائے تو اس خطرہ کا امکان باقی نہیں رہتا جس کا اظہار امام شافعی نے کیا ہے۔یہ بھی مد نظر رہے کہ جن ارباب علم نے استحسان پر اعتراض کیا ہے اور اسے ہدف تنقید بنایا ہے انہوں نے بھی کسی دوسرے نام سے حسب ضرورت اس انداز استدلال کو اپنایا ہے۔فرق صرف نام کا ہے ورنہ حقیقت ایک ہی ہے۔مَصَالِح مُرْسَلَهُ حتی اگر استحسان سے کام لیتے ہیں اور اس کی مدد سے غیر منصوص احکام کا استنباط کرتے ہیں اور کبھی کبھی اسے قیاس یا خبر واحد پر مقدم کرتے ہیں تو مالکی بھی اسی منہاج پر چلتے ہوئے بلکہ وسیع تر دائرہ میں استصلاح یا الاخذ بالمصالح المُرْسَلة کے نام سے اس کے ذریعد احکام شرعیہ لا يقول وكل حاكم وكل مفت بما استحسن فيقال في الشيء الواحد لضروب من الفتياء (الامام الشافعی صفحه ۲۳۳ و نیز صفحه ۲۳۱ بھی دیکھیں) اشترطوا في الأخذ بالمصلحة ان تكون من جنس المصالح التي اقرها الشارع وان لم يشهد لها نص خاص واعملوها في المواضع التي ليس فيها نصوص (محاضرات صفحه ۲۹۱) الذين يعترضون على الاستحسان والاستصلاح او القياس يصلون الى الحكم بضروب اخرى من الاستدلال الامام الشافعی صفحه ۲۳۸)