تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 86 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 86

جماعتی عہد یداروں کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف احمدی ہونے کی وجہ سے بعض مخصوص و محمد و و ذمہ داریاں بطور رکن مجلس خدام الا تمدید یا بطور رکن مجلس انصار اللہ ان پر عائد ہوتی ہیں میں بڑی وضاحت سے یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جماعتی کام ہر حال اہم ہیں۔اگر امیر جماعت یا پریذیڈنٹ بحیثیت احمدی کے انہیں کوئی حکم دے تو ان کا فرض ہے کہ وہ اس حکم کو بجالائیں خواہ اس حکم کی بجا آوری کے نتیجہ میں انہیں مجلس خدام الاحمدیہ کے کسی افسر کی حکم عدولی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔سرکشی توکسی صورت میں بھی جائز نہیں، لیکن انہیں چاہیئے کہ اپنی تنظیم کو اطلاع دے دیں کہ پریذیڈنٹ یا امیر نے میرے ذمہ فلاں کام لگایا ہے اس وقت مجھے وہ کام کرنا ہے اور اس وقت آپ نے ایک دوسرا کام میرے ذمہ لگایا تھا ، میں خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کا وہ کام اس وقت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔بهر حال جماعتی کام کو ذیلی تنظیموں کے کام پر متقدم رکھنا ہوگا۔" انصار اور بچوں کی تربیت بچوں کی تربیت کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کرتے ہوئے حضرت امیر المومنین نے اپنے خطبہ جمعہ موده ۱۹ ہجرت سرمئی ا پیشی میں فرمایا :- " اسی طرح میں انصار کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ بچوں کی تربیت نہایت ضروری چیز ہے اور ان کی نگرانی نہ کرنا ایک خطرناک غلطی ہے۔آخر خدام کوئی غیر تو نہیں ہیں۔انصار کی اپنی ہی اولاد میں گھر بجائے اس کے کہ وہ ان کو بچوں کی طرح سمجھائیں الٹا اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں ، گویا انہیں اپنا بیٹا یا اپنا بھائی بھول جاتا ہے اور یہ کہنا شروع کر دیتے له الفضل ، ار تبوک ۱۳۳۰ بهش رستمبر ۱۹۷۷ء