تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 69
۶۹ پس یہ چھ کام میں جو انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کے ذمہ ہیں انکو چاہیے کہ پوری کوشش کرکے جماعت کے اندر ان امور کو رائج کریں تاکہ ان کا ایمان صرف رسمی ایمان نہ رہے بلکہ حقیقی ایمان ہو جو انہیں الہ تعمال کا مقرب بنا دے اور وہ غرض پوری ہو جس کے لیے میں نے اس تنظیم کی بنیا د رکھی ہے۔" نماز با جماعت کا قیام اور انصار اللہ نماز باجماعت کے بارے میں انصاراللہ کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی نے نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۵- احسان رجون رامشی میں فرمایا :- ۱۹۴۲ ء آج سے میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کا فرض مقرر کرتا ہوں کہ وہ قادیان میں اس امر کی نگرانی کریں کہ نمازوں کے اوقات میں کوئی دکان کھلی نہ رہے، میں اس کے بعد ان لوگوں کو مذہبی مجرم سمجھوں گا جو نماز با جماعت ادا نہیں کرینگے اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو قومی مجرم سمجھوں گا کہ انھوں نے نگرانی کا فرض ادا نہیں کیا ہم پر اس شخص کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو سکتی جو بے نماز ہے اور ایسے شخص کا یہی علاج ہے کہ ہم اس کے احمدیت سے خارج ہونے کا اعلان کر دینگے مگر تو نظم میں وہ بھی مجرم سمجھے جائینگے اگر انھوں نے لوگوں کو نمازہ یا جماعت کے لیے آمادہ نہ کیا وہ صرف یہ کہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ ہم نے لوگوں سے کہ دیا تھا۔اگر لوگ نماز نہ پڑھیں تو ہم کیا کریں ، خدا نے ان کو طاقت دی ہے اور ان کو ایسے سامان عطا کئے ہیں مین سے کام لے کر وہ اپنی بات لوگوں سے منوا سکتے ہیں۔پیس کوئی وجہ نہیں کہ لوگ ان کی بات نہ مانیں۔وہ انہیں نماز با جماعت کے لیے مجبور کر سکتے ہیں اور اگر وہ مجبور نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے اخراج از جماعت کی رپورٹ کر سکتے ہیں اور مجھے ان کے حالات سے اطلاع دے سکتے ہیں۔میں آج سے خود اپنے طور پر بھی انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے اس کام کی نگرانی کروں گا اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ انھیں بھی اپنے بچوں اور نو جوانوں اور عورتوں اور مردوں کو نماز با جماعت کی پابندی کی عادت ڈالنی چاہیئے اخبار الفضل بے سر احسان کا جون ۱۳۲۱ حش