تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 57 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 57

AL میں بعد نماز ظہر و عصر بجھے اجلاس منعقد ہوا ، اس موقعہ پر حضرت امیر المومنین نے جو افتتاحی خطاب فسره درج ذیل ہے :- خطاب حضرت امیر المومنین موقعہ سالانہ اجتماع انصار الله له میں صرف مجلس انصار اللہ کی خواہش کے مطابق اس جلسہ کے افتتاح کے لیے آیا ہوں اور صرف چند کلمات کہ کر دعا سے اس جلسہ کا افتتاح کر کے واپس چلا جاؤں گا، انصار الہ کی بلیس کے قیام کو کئی سال گزر چکے ہیں، لیکن میں رکھتا ہوں کہ اب تک اس مجلس میں زندگی کے آثار پیدا نہیں ہوتے۔زندگی کے آثار پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اقوال تنظیم کامل ہو جائے، اور سگر متواتر حرکت عمل پیدا ہو جائے اور میرے اس کے کوئی اچھے نتائج نکلنے شروع ہو جائیں، میں ان تینوں باتوں میں مجلس انصاراللہ کو ابھی بہت پیچھے پاتا ہوں، انصار اللہ کی تنظیم ابھی ساری ماموریت میں نہیں ہوتی۔حرکت حمل ان میں ابھی پیدا ہوتی نظر نہیں آئی۔نتیجہ تو مری کے بد نظر آنے والی چیز ہے گر کسی اعلیٰ درجہ کے نتیجہ کی امید تو ہوتی ہے اور کم از کم اس نتیجہ کے آثار کا ظہور تو شروع ہو جاتا ہے مگر یہاں وہ امید اور آثار بھی نظر نہیں آتے غالباً مجلس انصار اللہ کا یہ پہلا سالانہ اجتماع ہے میں امید کرتا ہوں کہ اس اجتماع میں وہ ان کاموں کی بنیاد قائم کرنے کی کوشش کریں گے اور قادیان کی مجلس انصاراللہ بھی اور بیرونی مجالس بھی اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کریگی کہ بغیر کامل ہوشیاری اور کامل بیداری کے کبھی قومی زندگی حاصل نہیں ہو سکتی اور ہمسایہ کی اصلاح میں ہی انسان کی اپنی اصلاح بھی ہوتی ہے خدا تعالیٰ نے انسان کو الیسا بنایا ہے کہ اس کے ہمسایہ کا اثر اس پر پڑتا ہے۔نہ صرف انسان بلکہ دنیا کی ہر ایک چیز اپنے پاس کی چیز سے متاثر ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ پاس پاس کی چیزیں ایک دوسرے سے اثر کو قبول کرتی ہیں، بلکہ سائنس کی موجودہ تحقیق سے تو یہاں تک پتا چلتا ہے کہ جانوروں اور پرندوں وغیرہ کے رنگ ان پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں، اچھلیاں پانی میں رہتی ہیں اس لیے انکا رنگ پانی کی وجہ سے اور سورج کی شعاعوں کی وجہ سے جو پانی پر پڑتی ہیں سفید اور شکیلا ہوگیا الفضل بار ظهور ۱۳۲۳ هش / اگست ۱۹۴۵