تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 58
۵۰ مینڈک کناروں پر رہتے ہیں اس لیے ان کا رنگ کناروں کی سبز سبز گھاس کی وجہ سے سبزی مائل ہو گیا۔ریتلے علاقہ میں رہنے والے جانور مٹیالے رنگ کے ہوتے ہیں۔سبز سبز درختوں پر بسیرا رکھنے والے طوطے سبز رنگ کے ہو گئے جنگلوں اور سوکھی ہوئی جھاڑیوں میں رہنے والے تیتروں وغیرہ کارنگ سوکھی ہوئی جھاڑیوں کی طرح ہو گیا، غرض پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے اور ان کے اثرات قبول کرنے کی وجہ سے پرندوں کے تنگ بھی کسی قسم کے ہو جاتے ہیں، پس اگر جانوں اور پرندوں کے رنگ پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے بدل جاتے ہیں تو انسان کے رنگ جن میں دماغی قابلیت بھی ہوتی ہے پاس کے لوگوں کو کیوں نہیں بدل سکتے، خدا تعالیٰ نے اسی لیے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ کو نوامع الصادقین یعنی اگر تم اپنے اندر تقویٰ کا رنگ پیدا کرنا چاہتے پیدا ہو تو اس کا گر یہی ہے کہ صادقوں کی مجلس اختیار کرو تا کہ تمہارے اندر بھی تقوی کا وہی رنگ تمہارے نیک ہمسایہ کے اثر کے ماتحت پیدا ہو جاتے جو اس میں پایا جاتا ہے۔پسی جماعت کی تنظیم اور جماعت کے اندر دینی روح کے قیام اور اس روح کو زندہ رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اصلاح کی کوشش کرے کیونکہ ہمسایہ کی اصلاح میں اس کی اپنی اصلاح ہے۔ہر شخص جو اپنے آپ کو اس سے مستعفی سمجھتا ہے وہ اپنی روحانی ترقی کے راستہ میں خود روک بنتا ہے۔بڑے سے بڑا انسان بھی مزید روحانی ترقی کا محتاج ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخر دم تک اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم کی دُعا کرتے رہے۔پس اگر خدا کا وہ نبی جو سیلوں اور پچھلوں کا سردار ہے جس کی روحانیت کے معیار کے مطابق نہ کوئی پیدا ہوا ہے اور ہوگا اور جس نے خدا تعالیٰ کا ایسا قرب حاصل کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی اور نہ مل سکتی ہے اگر وہ بھی مدارج پر مدارج حاصل کرنے کے بعد پھر مزید روحانی ترقی کا محتاج ہے اور روزانہ خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو گیا ھدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت علیکم کہتا ہے اکیلا نہیں بلکہ ساتھیوں کو ساتھ لے کر کہتا ہے تو آج کون ایسا انسان ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو کر اھدنا الصراط المستقيم کتنے سے اور جماعت میں کھڑے ہو کر کہنے سے اپنے آپ کو مستغنی قرار دے۔اگر کوئی شخص