تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 276
سمجھا۔وہ جانتے تھے کہ آنحضر صلی الہ علیہ وسلم تمام جہان اور تمام زمانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم صرف اپنی فلاح پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ تمام بنی نوع انسان کی فلاح کو اپنا یہ نظر بنائیں۔یہی وجہ ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو کامیاب بنانے کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو گئے۔انھوں نے جس والہانہ جذبہ کے ساتھ قربانیاں پیش کیں تاریخ اسکی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔یہ میں ان کا یہ والہانہ جذبہ ہی تھا جس کے زیر اثر وہ تھوڑے ہوتے ہوئے میں عظیم تشکروں کے سامنے ڈٹ جاتے تھے اور بالآخر فتح یاب ہو کر ہی واپس لوٹتے تھے۔پھر انہی صحابہ میں سے وہ جانباز پیدا ہوئے جودہ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔جغرافیائی حدود پھاند کر اور سمت در صور کر کے وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں پہنچے اور وہاں اسلام کا پیغام پہنچا کر اور مختلف اقوام کو اسلام کے آغوش میں لاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو پورا کیا۔ہمیں بھی خدا تعالے نے ایک مامور کو جیسے اس نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے مبعوث کیا ہے ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔وہ مامور اسلام کو دوبارہ زندہ کرتے اور تبلیغ و اشاعت کے ذریعہ اسے ساری دنیا میں غالب کرنے کے لئے آیا ہے۔ہم بھی کسی صورت اس بات پر اکتفا نہیں کر سکتے کہ ہم۔نے خدا کے مامور کو مان لیا ہے اور اس کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر اعمال درست کر لئے ہیں۔بے شک یہ بھی ایک اہم فرض ہے اور اس کو ادا کرنا بھی ضروری ہے لیکن جسں مامور کو ہم نے مانا ہے، اس کی بعثت کی صرف اتنی ہی غرض نہیں ہے۔اس کی بہشت کی غرض ساری دنیا کو حلقہ بگوش اسلام بنا کر تمام بنی نوع انسان کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کرنا ہے۔انہیں محمد مصطفے صلی الہ عار و مستم کی غلامی میں لاکر خدائے واحد کا پرستار بناتا ہے۔پس ہمارا کام یہیں ختم نہیں ہو جاتا کہ ہم مامور سیرابیات لاکر اپنی زندگیوں کو اسلامی احکام کے مطابق بنائیں۔ہمیں اس سے آگے قدم بڑھا کہ ایک بہت بڑی منزل سرکرنی تھے۔ہمیں اس اہور کی لائی ہوئی روشنی لینی حقیقی اسلام کو دنیا کے ایک سرے سے سے کہ دوسرے سرے تک پھیلانا ہے اور دنیا کے چپہ چپہ پر خدا کی بادشاہت کو قائم کرنا ہے۔یہ کام اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بہت عظیم جدوجہد اور عظیم قربانیوں کا متقاضی ہے۔ہم اس وقت تک چین سے بیٹھ ہی نہیں سکتے جب تک کہ یہ عظیم مقصد پورا نہ ہو جائے۔