تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 260
۲۵۹ عمل کر کے ان کے ظاہری فوائد سے متمتع ہو رہے ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ جب اللہ تعالئے اہل چین کی روحانی آنکھ کھول دے گا اور وہ اسلام سے مشرف ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے تو چونکہ وہ اسلامی تعلیم کے بعض پہلوؤں پر پہلے ہی سے گامزن ہوں گے اس لئے وہ بڑی آسانی کے ساتھ روحانی منازل کو طے کر کے اللہ تعالے کی دینی اور دنیوی برکات سے متمتع ہو جائیں گے۔اس کے بعد آپ نے اسلام کی تمدنی تعلیم کے بہت سے اہم پہلوؤں مثلاً اطاعت نظام، خوش خلقی، بدکاری اور بے حیائی سے اجتناب مہمان نوازی، تعاون یا ہمی، رضا کارانہ خدمت ، نظم وضبط اور صفائی وغیرہ کا ذکر کرنے کے بعد نہایت دلچسپ مثالوں سے بہلایا کہ کس طرح ان امور پر بڑی حد تک اہل چنین عمل رہے۔آپ اسلام کر یہ ہے ہیں ، آپ نے انصار کو توجہ دلائی کہ چونکہ اللہ تعالے نے ہمیں اسلام کا عملی نمونہ ظاہر کرنے کی ذمرواری سونچا ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے معاشرہ میں اور اپنے اپنے حلقہ اثر میں ان سے بڑھ کر اسلام کے تمدنی احکام پر عمل کرنے کی کوشش کر یں۔دوسری مرتبہ اور نبوت کو آخری اجلاس میں حضرت امیر المومنین کی تشریف آوری سے قبل " باہمی اخوت ومحبت کے بارہ میں اسلامی تعلیم کے موضوع پر خطاب کیا اور قرآن کریم، احادیث اور حضرت میں موجود علیہ السلام کے ارشادات اور نمونہ کی روشنی میں احباب کو توجہ دلائی کہ وہ اپنی عملی زندگیوں میں اس کا نمونہ پیش کریں۔حضرت امیر المومنین کا اختتامی خطاب حضور سوا گیارہ بجے اختتامی خطاب کے لئے مقام اجتماع پر تشریف لائے۔نظم کے بعد پہلے حضور نے انعامات تقسیم فرمائے اس کے بعد فرمایا کہ مری ہدایت پرانصار اللہ کی مجلس شوری نے نائب صدر منتخب کرنے کے لئے تین ناموں کی سفارش کی ہے۔لیکن بعض وجوہ کی بنا پر میں ان سے کسی کو بھی اس عہدہ کے لئے فارغ نہیں کر سکتا۔کیونکہ پہلے ہی ان کے سپرد سلسلہ کے اہم کام ہیں۔حضور نے فرمایا آئندہ سال کے اجتماع میں جب حسب قواعد انصار اللہ کے صدر کا انتخاب ہو گا اس موقعہ پر نائب صدر کے لئے بھی سفارش پیش کر دی جائے۔سر دست میں ایک سال کے لئے نائب صدر مقرر کر دوں گا اور اس ه الفضل مار نبوت / نومبر ان باش ۱۳/ 81964