تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 249 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 249

تغیر ا اجلاس نماز تہجد رجو اجتماعی طور پر پڑھی گئی، اور نماز فجر کے بعد شروع ہوا، مولانا ابو امطار صاحب نے قرآن کریم کا درس دیا۔پھر ذکر جیب میرا اسلام پر حافظ عبدا سمیع صاحب امرد بوی حاجی محمد فاضل صاحب اور حکیم عبید اللہ رانجھا صاحب نے تقاریر فرمائیں۔، بجے ناشتہ کے لیے وقفہ ہوا۔چوتھا اجلاس ہم بچے بصدارت مرزا عبدالحق صاحب شروع ہوا ،شیخ مبارک احمد صاحب پر و فیسر بنات الرحمن صاحب اور مولوی محمد یار صاحب عارف نے علی الترتیب قرآن کریم احدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس دیا بعد از ان دو بزرگ صحابی سینی حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی سیرت پر شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ کا لکھا ہوا ایک مضمون شبیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنایا، پھر تی به کرام در حضرت قاضی عبداللہ صاحب اور صوفی محمد رفیع صاحب سکھر نے ذکر حبیب پر تقاریر فرمائیں۔بعد ازاں حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے حضرت امیرالمومنین کی علالت اور علاج کے بارے میں تفصیل پیش کی اور حضور کی صورت کے لیے دعا کی تحریک فرمائی۔صدر محترم کی اقتدا میں تمام حاضرین نے اسی وقت حضور کی صحت کا ملہ کے لیے اجتماعی دعا کی۔اس کے بعد بابو قاسم الدین صاحب کی زیر صدارت انعامی تقریری مقابلہ منعقد ہوا جس میں ، مقررین نے حصہ لیا۔تقریری مقابلوں کے بعد سوال و جواب کا نہایت دلچسپ پروگرام شروع ہوا۔صدر محترم کے علاوہ مولانا جلال الدین صاحب شمس ، مولانا ابو العطاء صاحب اور شیخ مبارک احمد صاحب نے جوابات دیئے۔اس اجلاس کے دوران ۲۳ منتخب افراد پرمشتمل ایک نمائندہ وفد نے شیخ محبوب عالم صاحب مخالد قائد عمومی کی سرکردگی میں حضرت امیر المومنین کے پاس حاضر ہو کہ شرف ملاقات حاصل کیا۔پانچواں اجلاس شو ۲ بجے زیر صدارت شیخ محمد احمد صاحب مظہر امیر جماعتہائے لائلپور منعقد ہوا، حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا درس ملک سیف الرحمن صاحب اور مولانا غلام احمد صاحب فرخ نے دیا۔اس کے بعد صدر محترم نے قبولیت دعا پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے ایام میں جبکہ مسلمانوں میں مایوسی کا عالم طاری تھا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے غلبہ سلام کے لیے جو دعائیں کیں اس کے نتیجہ میں ایک خادم اسلام جماعت حضور کو ملی نیز فرمایا کہ دعا کے ذریعہ ہی انسان کا خدائے تعالیٰ سے ذاتی تعلق پیدا ہوتا ہے، تقریر کے دوران آپ نے قبولیت دنیا کا ایک ذاتی واقعہ بھی بیان کیا۔بقیہ اجلاس زیر صدارت قریشی عبدا او من صاحب ناظم اعلی میا اس سندھ بلوچستان الفضل مورخه هم نبوت نومبر ۱۳۳۷ میش 1948