تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 231
کیونکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ صدیاں تعلق نہیں رکھتیں ، ان کا تعلق تو ہمارے ساتھ ہے اور نہ خدا تعالیٰ دا اعلان کے ساتھ ان تو ہمارے ساتھ ہے اور تو ازلی ابدی خدا ہے۔پس دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھی اور مجھے بھی توفیق دے کہ ہم ثواب حاصل کریں لیکن جو اصل چیز ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالٰی یہ بوجھ خود اٹھائے تا کہ آئندہ ہمارے لیے کوئی فکر کی بات نہ رہے۔اس افتاحی خطاب کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی جس میں انصار اور خدام سب شریک ہوئے۔حضور کی انتظامی تقریر کے بعد مجلس انصار اللہ کے پہلے سالانہ اجتماع کی کارروائی فضل عمر بوشل کے صحن میں زیر صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ، نائب صدر مجلس انصاراللہ شروع ہوئی ہیں میں صاحب صدر کے ابتدائی ریمارکس کے بعد مولانا عبدالرحیم صاحب در و قائد عمومی اور حضرت مولانا نظام ہونا صاحب فاضل را جیکی نے انصار سے خطاب فرمایا، پھر مولوی ظہور حسین صاحب نے درس حدیث د یا نماز مغرب وعشا کے بعد شوری کا اجلاس منعقد ہوا اور ایجنڈا پر غور کیا گیا۔دوسرے دن مورخہ 19 نبوت ناشتہ کے بعد اجتماع کی کارروائی نائب صدر مجلس کی زیر صدارت شروع ہوئی، درس قرآن کریم و کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد مجلس مرکزیہ کے چار قائدین مولانا عبدالرحیم مشاب وترو، مولانا ابو العطاء صاحب ، مولوی قمر الدین صاحب (نائب قائد ) اور ستید ولی اللہ شاہ صاحب نے دس دس نٹ تک اپنے اپنے شعبوں سے متعلق ضروری امور پیش کئے۔قائدین کے بعد سید محمد علی صاحب زعیم مجلس سیالکوٹ ، مولوی غلام احمد صاحب بد و ملهوی، قریشی محمد حنیف صاحب نمائندہ لائلپور ، قریشی محمد افضال صاحب نمائندہ راوہ اور مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری نے حاضرین سے خطاب کیا اتقاریر کے بعد شور مٹی کی بقیہ کارروائی عمل میں آئی ، آخر میں چوہدری فتح محمد صاحب نے تبلیغ کی اہمیت پر تقریر فرمائی۔کھانے اور نمازوں کے وقفہ کے بعد آخری اجلاس زیر صدارت حضرت مرزا عز بنيد احمد صاحب ناظرا على م ہوا، تلاوت کے بعد تقریری مقابلہ ہوائیں میں چار اراکین نے حصہ لیا اور دس دس منٹ تقاریر کیں ، مولوی عبد الغفور صاحب کی سلسله اقول، حاجی محمد فاضل صاحب دیوه دوم اور قریشی محمد حنیف صاحب الامپور سوم قرار پائے اور انہیں پچاس روپے کی کتب بطور انعام دی گئیں۔اس مقابلہ کے بعد سوالات اور جوابات کا سلسلہ جاری تھا کہ حضرت امیرالمومنین با وجود علالت طبع ساڑھے تین بجے مقام اجتماع میں تشریف لے آئے