تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 15 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 15

10 انصار اللہ کہلانے کی مستحق ہو گی قرآن کریم میں بھی وآخرين منهم لما يلحقوا بهم کے الفاظ میں میں پینگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بعثت آخرین کی جماعت میں مقدر ہے اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام پر ایمان لانے والے صحابہ کے شیل ٹھہرے۔جن خوش نصیب لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحا بہ بننے کا شرف حاصل ہوا وہ کس شان اور کسی درجہ کے لوگ تھے اس کا پتہ ان اقوال و تحریرات سے لگتا ہے جن میں حضور نے وقتاً فوقتاً ان کے بارے میں اظہار خیال فرمایا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حضور نے بھی اپنے بعض جان شاروں کے نام لیکر فرداً فردا ان کی تعریف کی ہے۔بعض جگہ ایک شہر یا علاقے کے مخلصین کا ذکر فرمایا ہے اور ان کی خوبیاں بیان کی ہیں ، پھر بحیثیت جماعت سارے مومنین کے اخلاص اور رونا کا نہایت دلکش پیرائے میں اظہار فرمایا ہے اور ایسے محسین مخلصین کے مل جانے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔اختصار کے پیش نظر حضور کی تحریرات میں سے صرف دو اقتباسات اس جگہ بطور نمونہ درج کئے جاتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں :- اس زمانہ میں میں میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نورا اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور مینسی اور لعن طعن اور طرح طرح کو لآزاری اور بد زبانی اور قطع رحم و غیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اُٹھایا ، وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مردوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی۔بہتیرے ان میں سے ہیں کہ نمازہ میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں۔جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے، بہتیرے ان میں ایسے ہیں جن کو سچی خوا میں آتی ہیں اور الہام الہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ کرام معنی اللہ عنہم ہوتے تھے۔بہتیرے ان میں ایسے میں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالٰی کی مرضات کے لیے ہمارے حملہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور دنوں کے نرم اور سچی تقومی پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی الله تنم کی سیرت تھی، وہ خدا کا گروہ ہے جن کو بخدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو