تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 114 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 114

فی رو پیر کر دی جائے، شوری نے اس وقت کے حالات کے پیش نظر سفارش کی کہ ایک گاڑی فوری طور پر خرید لینی چاہیئے، قیمت کی فراہمی کے لیے حسب معمول رقوم ضلعوار بجٹ کے لحاظ سے مقر کر دی گئیں اور ناظمین اضلاع اس امر کے ذمہ دار قرار دیئے گئے کہ وہ اپنے حصہ کی رقوم جمع کرا دینگے ، اس طرح گاڑی نوید نے کے لیے روپیہ جمع ہو گیا، وصولی میں جو کی رہ گئی وہ صدر محترم کی تحریک پر مخیر حجاب کے عطیہ جات سے پوری کرلی گئی، اس فنڈ سے ۳۵ ہزار روپیہ میں ایک عمدہ مائیکر ولیس رفاکس ویگین ، خرید کی گئی اور اس کے لیے۔۔۔۔اخراجات سفر تنخواہ ڈرائیور وغیرہ کو باقاعدہ بجٹ میں شامل کر لیا گیا۔مجلس انصاراللہ کا جو بحث تنظیم کے قیام سے لیکر اس وقت تک بنا گوشوارہ بحث آمد و خرج رہا ہے اس کا گوشوارہ درج ذیل ہے۔اس گوشوارہ پر نظر ڈالنے سے ن معلوم ہوتا ہے کہ دور جدید میں خدا کے فضل سے بجٹ سال بہ سال بڑھتا چلا گیا ہے اس امیش میں اس 31404 کی مقدار صرف ۲۳ مزار تھی ، لیکن میں میں یہ دوگنا ہو گیا اس کے بعد جب حضرت امیرالمومنین نے ۱۳۴۴ 1440 چندہ مجلس کی شرح میں اضافہ فرہ یا تو مجلس کے کاموں میں بہت وسعت پیدا ہوگئی اور بجٹ بڑھکر ایک لاکھ چوہتر ہزار ہوگیا تو یہ ہیں کے مقابلہ میں سات گنا سے بھی زیادہ افسانہ ہو گیا۔کسی تنظیم یا ادارہ کا بجٹ اس امر کا آئینہ دار ہوتا ہے کہ اس میں ترقی کی صلاحیت اور زندگی کی روخ کس قدر پائی جاتی ہے۔سو الحمد للہ کہ انصاراللہ کا ہر نیا سال یہ واضح کرتا ہے کہ قدم آگے ہی آگے پڑ رہا ہے۔اور جوانوں کی سی ستی پائی ہےاور این مالی سال مضبوط سے میواتر جاری اور اس کے میں چستی پائی جاتی ہے اور بعض ایزدی تنظیم سال بہ سال مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے اور اس کے کاموں میں پختگی روز افزوں ہے۔یہ امر بھی باعث اطمینان ہے کہ کئی مجالس ایسی میں جو سرکہ کی ضروریات کے پیش نظر اس امر کا انتظار نہیں کرتیں کہ اراکین سے مختلف مدات میں وصول ہو جائے تو رقوم مرکز کو ارسال کریں۔اکثر اوقات وہ سال کے ابتدائی حصہ میں ہی اپنے جملہ واجبات ادا کر دیتی ہیں اور اراکین سے وصولی کا کام حسب معمول اپنے وقت پر ہوتا رہتا ہے۔