تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 89
اور وہ کئی ماہ قید میں رہے۔جب چوہدری فتح محمد صاحبت رہا ہوکر لاہور پہنچے تو حضرت الصلح الموعود نے ان کو مجلس انصار اللہ کا دوسرا صدر مقرر فرمایا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت امیر المومنین اس افراتفری اور بیکسی کے زمانہ میں بھی ذیلی تنظیموں کی اہمیت اور افادیت کو نظر انداز نہیں ہونے دینا چاہتے تھے انگر حالات اس وقت ایسے نامساعد تھے اور جماعتوں کے شیراز سے کچھ اس طرح بکھر گئے تھے کہ فوری طور پر کوئی نظیم اپنا کام نہیں چلا سکتی تھی۔اس کے لیے کافی وقت کی ضرورت تھی۔جب حالات کسی قدر بہتر ہو گئے تو حضرت امیر المومنین نے نے انصار اللہ کی مرکزی تنظیم میں کچھ تبدیلیاں کرنا ضروری تھا، چنانچہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی بجائے حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحبیثہ ناظر اعلی کو ماہ نبوت / نومبر 1 میٹ میں صدر تفلیس تجویز فرمایا اور مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ $1900۔کی بجائے جو تقسیم ملک کے وقت قادیان میں ہی مقیم رہے اور تباعت قادیان کے مقامی امیر اور مرکزی امین احمدیہ قادیان کے ناظر اعلی مقرر ہوئے ، چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر کو نائب قائد عمومی بنایا۔اسی طرح مولانا ابو العطاء صاحب جانند مری کو قائد تبلیغ اور مولوی احمد خان صاحب سیم کو نائب قائد تبلیغ مقرر فرمایا۔اس دور میں مجلس کے مستقل دفتر کی تعمیر کی طرف کچھ توجہ ہوئی۔حضرت امیرالمونین نے اس فرض کے لیے پہلے ہی سے جگہ مختص کر دی تھی، کچھ رقم بھی تعمیر کے لیے مد امانت میں جمع تھی اس لیے قائد صاحب عمومی کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ دفتر کی تعمیر کے لیے جگہ کی تعیین کرا کر اور نقشہ بنوا کر مجلس میں پیش کریں۔اغلباً عالی مشکلات کے پیش نظر یہ کام تجاویز تک ہی رہا اور کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا جا سکا۔افسوس کہ اس دور سے متعلق مجلس مرکزیہ کی کارروائیوں کا ریکارڈ محفوظ نہیں رہا، اخبار الفضل میں وقتاً فوقتاً جو اعلانات ہوتے رہے ان سے پتہ لگتا ہے کہ ناخواندہ اور کم تعلیم یافتہ انصار کے لیے میں نے مندر جہ ذیل نصاب مقرر کیا اور اس کی تکمیل کے لیے کم اضاور اکتوبر نامیش سے آخر توی رستمی را میش ۱۳۳۰ ۱۳۳۷ لیے ا۔1901 ینک کا وقت مقریہ کیا اور اس دوران مجالس اور ان کے عہدہ داروں کو یاد دہانیاں کرائی جاتی رہیں۔جو اراکین بالکل ناخواندہ ہیں اور قرآن کریم ناظرہ بھی نہیں پڑھ سکتے ان کے لیے قاعدہ میسر نا القرآن مقر رکیا جاتا ہے، میعاد کورس و ماہ ہوگی، اس کے علاوہ زمانہ کا ترجمہ سیکھنے کے لیے دو ماہ کا وقت مقر کیا جاتا ہے۔جو معمولی نوشت و خواند نہیں رکھتے، لیکن ناظرہ قرآن جانتے ہیں ان کے لیے نصاب میں ہوگا اردو کا قاعدہ اردو کی پہلی کتاب اور لکھائی اُردو کاپی نمبر ۱ ۲ یا اُردو حروف ابجد میعا د کورس ۶ ماه انماز کا رتبه