تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 88 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 88

ساتواں باب مجلس انصاراللہ کا ایک مجبوری دور ۱۹۴۵ء مجلس انصاراللہ مرکز یہ قادیان کے ریکارڈ کے مطابق امیش تک مجلس انصار اللہ کے تمام کام حضر مولوی شیر علی صاحب کی صدارت میں بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام پاتے رہے ، اس کے بعد ملکی حالات بڑی سرعت سے بدلنے لگے اور سارے ملک ہند میں سیاسی بے چینی اور اضطراب کی کیفیت طاری ہوگئی۔اس ملک کی دو بڑی قوموں مسلمانوں اور مہندوؤں میں سیاسی کشمکش جاری تھی اور نظر آرہا تھا کہ انگریز اس ملک پر زیادہ دیر تک حکمران نرہ سکیں گے اس متوقع خلا کو پر کرنے کے لیے ہندو اس امر کی کوشش میں تھے کہ نہام حکومت ان کے ہاتھ میں آجائے اور وہ ملک کے سیاہ و سفید کے واحد مالک ہوں ، اس کے برعکس مسلمان بحیثیت قوم یہ محسوس کرتے تھے کہ اگر اقتدار ہندؤوں کے ہاتھ میں منتقل ہو گیا تو ان کے مفادات کو سخت نقصان پہنچے گا اس لیے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے ایک الگ خطہ زمین مختص کر دیا جائے ، جہاں وہ اپنے مذہبی اور و نیوی معاملات اپنی منشا کے مطابق آزادانہ طے کر سکیں اور بحیثیت آزاد مسلمان قوم زندگی بسر کر سکیں۔اس سیاسی کشمکش کا اثر لاز ما جماعت احمدیہ پر بھی پڑا اور سلمان قوم کا فرد ہونے کی حیثیت سے جماعت احمدیہ نے بھی مسلم مفادات کی حفاظت کے لیے جس قدر ممکن تھا سعی کی اور اپنی تمام صلاحیتیں اور توانائی اس کام کے لیے وقف کر دی۔اس سیاسی بے چینی کے باعث جماعت کی توجہ ایک لحاظ سے بٹی رہی اور انصار اللہ کا مخصوص تعلیمی اور تربیتی پروگرام پوری طرح جاری نہ رہ سکا اور اس میں گونہ تعطل واقع ہوگیا یا تک که اگست ۱۹۴۷ء میں ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور پاکستان بحیثیت ایک آزاد مسلم مملکت کے دنیا کے نقشہ پر ابھرا، تقسیم ملک کے بعد میں انصار اللہ کے پہلے صدر حضرت مولوی شیر علی صا حبیب ۱۳در نبوت رونومیر میں کہ اس جہان فانی سے کوچ فرما گئے۔علاوہ ازیں اس ہنگامہ خیز دور میں تنظیم انصار اللہ کے دو قائدین یعنی پچو ہدری فتح محمد سیال اور سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو حکومت ہند نے گرفتار کر لیا