تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 83
چار دینی تنظیمیں عمارت کی چار دیواروں کی طرح میں میری عرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم سے یہ ہے کہ عمارت کی چاروں دیواروں کو مکمل کر دوں، ایک دیوار انصار اللہ ہیں۔دوسری دیوار خدام الاحمدیہ اور تعمیری اطفال الاحمدیہ اور پو تھی لبنات اما ء اللہ ہیں۔اگر یہ چاروں دیواریں ایک دوسرے سے علی علیہ ہو جائیں تو یہ لازمی بات ہے کہ کوئی عمارت کھڑی نہیں ہو سکے گی۔عمارت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کی چاروں دیوار میں آئیں میں جڑی ہوئی ہوں اگر وہ مسیحدہ علیحدہ ہوں تو وہ چار دیواریں ایک دیوار جتنی بھی قیمت نہیں رکھتیں۔۔۔۔۔۔پس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے آپ کو تفرقہ اور شقاق کا موجب نہیں بنانا چاہیے۔اگر کسی حصہ میں شقاق پیدا ہو تو خدا تعالیٰ کے سامنے تو وہ جوابدہ ہوں گے ہی۔میرے سامنے بھی وہ جوابدہ ہوں گے یا جو بھی امام ہو گا اس کے سامنے انہیں جواب دہ ہونا پڑیگا کیونکہ ہم نے یہ مواقع ثواب حاصل کرنے کے لیے مہیا کئے ہیں، اس لیے مہیا نہیں کئے کہ جماعت کو جو طاقت پہلے سے حاصل ہے اس کو بھی ضائع کر دیا جائے : اے جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں کا باہمی تعلق حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تعلیم القرآن کے منصوبے کے سلسلہ میں قناعتی نظام اور ذیلی تنظیموں کے باہمی تعلقی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ در شهادت / اپریل ۳۳۵ ایمش ۱۹۶۶ء میں ارشاد فرمایا : - ه اس سلسلہ میں میں یہ کہانی ضرور میں سمجھتا ہوں کہ بعض جگہ سے یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ گو ہماری بیبا عت خدام الاحمدیہ کے سپرد نہ کی گئی تھی لیکن انھوں نے جماعتی نظام سے علیحدہ له الفضل ٣٠ - جولائی ۱۹۹ 1444 له الفضل ۱۳- شہادت کہ اپریل ۱۳۲۵ ش ۱۹