تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 74
پس وہ وقت آنیوالا ہے جب جرمنی اور جاپان دونوں کے سامنے ہمیں عیسائیت کی ناکوئی اور اسلامی اصول کی برتری و نمایاں طور پر پیش کرنا پڑیگا ، اسی طرح انگلستان اور امریکہ اوروس کے سمجھدار طبقہ کو اسلام کی ہر تعلیم کی برتری بنا سکیں گے اگر یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب ہماری طاقت منظم ہو، جب ہماری جماعت کے تمام افراد زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے کے لیے تیار ہوں ، جب کثرت سے ہمارے پاس مبلغین موجود ہوں اور جب ان مبلغین کیلئے ہر قسم کا سامان ہیں میتر جو اسی طرح یہ کام اس وقت ہو سکتا ہے جب جماعت کے تمام نوجوان پورے طور پر منظم ہوں اور کوئی ایک مرد کبھی ایسانہ ہو جو اس تنظیم میں شامل نہ ہو۔وہ سب کے سب اس ایک مقصد کے لیے کہ ہم نے دنیا میں اسلام او را احمدیت کو قائم کرتا ہے اس طرح رات اور دن مشغول رہیں میں طرح ایک پاگل اور مجنون شخص تمام جہات سے توجہ ہٹا کر صرف ایک کام کی طرف مشغول ہو جاتا ہے وہ بھول جاتا ہے اپنی بیوی کو، وہ بھول جاتا ہے دوستوں اور رشتہ داروں کو اور صرف ایک مقصد اور ایک کام اپنے سامنے رکھتا ہے اگریم جنون کی کیفیت اپنے اندر پیدا کر میں اور اگر ہماری جماعت کا ہر فرد دن اور رات اس کی مقصد کو اپنے سامنے رکھے تو یقیناً اللہ تعالٰی ہماری جماعت کے کاموں میں برکت ڈالے گا اور اس کی کوششوں کے حیرت انگیز نتائج پیدا کرنا شروع کر دیا۔۔اگر ہماری ساری جماعت اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لیے کھڑی ہو جائے اور دن رات اس کام میں لگ جائے وہ اپنے آرام کو نظر انداز کر دے، اپنی سہولت کو پس پشت پھینک دے اور دیوانہ وار اس کام میں مشغول ہو جائے تو گو ہماری تعداد تھوڑی ہے ہمارے پاس اور اقوام کے مقابلہ میں سامان بہت کم ہے مگر یقیناً اس مجنونانہ کوشش کے نتیجہ میں دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر رونما ہو جائیگا اور ایک بڑا انقلاب الٹی ہا تھوں سے ظاہر ہو گا۔“