تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 73 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 73

ہم میں اس تنظیم کے لحاظ سے کسی قسم کی خامی اور نقص باقی نہیں رہا۔۔۔۔۔تب وہ اس قابل ہوسکیں گے کہ دوسروں کی اصلاح کریں اور تب دنیا مجبور ہوگی کہ ان کی باتوں کو سنے اور ان پر فرائض کی ادائیگی میں مجنونانہ کوشش ہماری جماعت کے سپرد ی کام کیا گیا ہے۔کہ ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے اتمام دنیا کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکانا ہے، اتمام دنیا کو اسلام اور احمدیت میں داخل کرنا ہے، تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم کرنا ہے مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک سرانجام نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ ہماری جماعت کے تمام افراد خواہ بچے ہوں یا نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کرلیتے اور اس کا تو مکمل کے مطابق دن اور رات عمل نہیں کرتے جو ان کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔۔۔اس اندرونی اصطلاح اور تنظیم کو مکمل کرنے کے لیے میں نے قدام الاحمدیہ انصار اللہ اور اطفال الاحمدیہ تین جماعتیں قائم کی ہیں اور یہ تینوں اپنے مقصد میں جو ان کے قیام کا اصل باعث ہے اس وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب انصار اللہ خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ اس اصل کو مد نظر دیکھیں جو حيث ما كُنْتُمُ نَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ میں بیان کیاگیاہے کہ ہر شخص اپنے فرض کو سمجھے اور پھر رات اور دن اس فرض کی ادائیگی میں اس طرح مصروف ہو جائے جس طرح ایک پاگل اور مجنون تمام اطراف سے اپنی توجہ کو ہٹا کر ایک بات کیلئے اپنے تمام اوقات کو صرف کر دیا ہے جب تک رات اور دن انصار اللہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے جب تک رات اور دن خدام الاحمر اپنے کام میں نہیں لگے رہتے۔جب تک رات اور دن اطفال الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے تمام اوقات صرف نہیں کر دیتے اس وقت تک ہم اپنی اندرونی تنظیم مکمل نہیں کر سکتے اور جب تک ہم اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے اس وقت تک ہم بیرونی دنیا کی اصلاح اور اس کی خرابیوں کے ازالہ کی طرف بھی پوری طرح توجہ نہیں کر سکتے۔