تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 5
مداور بسم الله الرحمن الرحيم نَحْمَةٌ وَتُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكريم عرض حال مجلس شور می انصار الله منعقد و سران سلامی میں منجملہ اور امور کے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجلس انصارالہ 1967 کی تاریخ لکھی جانی چاہیئے تاکہ اس سے متعلق تمام کوائف محفوظ اور یکجا ہو جائیں، اس فیصلہ کے بموجب اُس وقت یہ کام تین افراد پرمشتمل ایک کمیٹی کے سپرد ہوا۔اس کیٹی میں مکرم پر و فیسر غلام باری صاحب سیف قائد اشاعت ، مکرم مولوی دوست محمد صاحب اور خاکسار کا نام رکھا گیا۔اسی میں اس کمیٹی کے تین چار ۱۳۵۳ F 196M ۶۱۹۷۳ اجلاس ہوئے جن میں مواد تجمع کرے سے متعلق تجاویز پیش ہوئی اورتقسیم کار ہوئی تھوڑا عرصہ یہ کمیٹی کام کرتی کام ہوئی تھوڑا یہ کام رہی اور کچھ مواد بھی جمع کیا گیا، لیکن بوجوہ رفتار بہت سست رہی، اس لیے کام میں قدرتاً تاخیر ہو گئی۔نگ ہیں یہ کام کلیتہ خاکسار کے سپرد ہوا، لیکن یہ سال جماعت کے لیے آزمائش کا سال ثابت ہوا۔ہنگامی حالات کے پیش نظر تصنیف کے کام میں بہت سی مشکلات پیش آگئیں۔دوسری ذمہ داریوں کی وجہ سے لائبریری میں جانے کا وقت نہیں ملتا تھا اور اخباروں کے فائل دوسری جگہ سے دستیاب نہ ہوتے تھے اس وجہ سے کام میں بہت تاخیر ہوتی چلی گئی تاہم جو وقت بھی میسر آتا اس سے پورا استفادہ کرنے کی کوشش کی گئی الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و عنایت سے کچھ نہ کچھ لکھنے کی توفیق عطا فرما دی جسقدر معلومات حاصل ہو سکیں ان کو اپنی سمجھ کے مطابق ترتیب دے دیا ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ضرورت پوری ہوئی یا نہیں مجھے اس امر کا شدید احساس ہے کہ مطالعہ کے لیے جو وقت اور سہولت ملنی چاہیے تھی۔وہ میسر نہ آسکی ایسے لازما بہت سی خامیاں رہ گئی ہونگی، اس کے لیے قارئین سے معذرت خواہ ہوں۔صدر محترم کا یہ ارشاد تھا کہ تاریخ صرف ایک جلد پرشتمل ہوا، اس لیے تمام وہ تقاریر جوستید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے سالانہ اجتماعات کے موقعوں پر فرمائیں تاریخ میں شامل نہیں کی جاسکتی تھیں اور نہ تمام مرکزی اور ضلعی