تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 6
اجتماعات کی تفاصیل کو شامل کیا جا سکتا تھا، اس لیے حضرت امیرالمومنین کی تقاریر میں سے صرف انکا انتخاب کر لیا گیا جن میں حضور نے براہ راست انصار اللہ کو مخاطب کیا اور ان کے بارے میں ہدایات ارشاد فرمائیں۔اسی طرح مرکزی اجتماعات میں سے بھی صرف پانچ کو منتخب کر لیا گیا ہے تاکہ ان کی کیفیات کا کچھ نہ کچھ نقشہ آنکھوں کے سامنے آجائے ضلعی یا علاقائی اجتماعات پر صدر محترم نے جو پیغامات ارسال کئے ان میں سے صرف ایک دو بطور نمونہ شامل کر لیے گئے ہیں تا کہ کتاب کا حجم زیادہ بڑھنے نہ پائے۔مجلس کا دستورا ساسی الگ طور پر شائع ہو چکا ہے اس لیے اس کو شامل تاریخ نہیں کیا گیا، البتہ شوری کے فیصلہ جات کو یکجا کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنے اندر بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور اب تک الگ شائع ۱۹۵۴ نہیں کئے جا سکے۔اس امر کا افسوس ہے کہ تقسیم ملک کے بعد سے پیش تک کا مجلس کا ریکارڈ محفوظ نہ رہ سکا لہذا اس دور کے بارے میں اس تنظیم کی کارگزاری پیش نہیں کی جاسکی ، الفضل میں کچھ اعلانات اس زمانہ میں ضرور شائع ہوتے رہے ہیں، لیکن ان سے ملبس کے پروگرام کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوئیں اور یہ دور تشنہ ہی رہتا ہے۔مین مکرم مولوی عبدالرتمن صاحب انور کا بہت ممنون ہوں کہ انہوں نے انصار اللہ کے دوسرے دور سے متعلق ضروری معلومات فراہم کیں۔میں نے ان کی ڈائری سے بہت سا فائدہ اٹھایا ہے۔اسی طرح میں مکرم چو ہدری تدا با کیم صاحب ایم اے سیکرٹری صد میں کا ممنون ہوں کہ انھوں نے تاریخ کی تیاری میں بہت تعاون کیا۔وہ آپ ونیر سے بھی شکریہ کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ذاتی دلچسپی شوق اور توجہ سے انصار اللہ کا بہت ساریکارڈ محفوظ رکھا ہے۔اس ریکارڈ کے بغیر انصار اللہ کی تاریخ لکھنا بہت مشکل ہوتا۔تاریخ انصار اللہ کی تصنیف کا کام تو جنوری شاہ میں ہی مکمل ہو گیا تھا ، لیکن اس کی اشاعت بوجود معرض التوا میں پڑی رہی میشاء میں محسوس کیا گیا کہ کتاب عبد شائع ہو جانی چاہیے چنانچہ مسودہ پر نظرثانی کر کے ضروری ترامیم و اضافہ کے بعد اب اسے شائع کیا جارہا ہے۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس ناچیز کوشش کو قبول فرمائے اور اس تنظیم کا مطالعہ کر نیوالوں کے لیے اسے باعث برکت و رہنمائی بنا ئے۔ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم و آخر د عوينا ان الحمد لله رب العلمين - ۱۳۵۷ حش ۱۲ ظهور اگست میش 1950 خاکسار کی حبیب اللہ خان (قائد تعلیم)