تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 44
قسم کی تقاریز ہونی چاہئیں اور جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہیئے کہ لوگ یہ یہ اعتراض کرتے ہیں اور ان کے اعتراضات کے یہ جوابات ہیں۔۔۔۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کو دوسروں کے دلائل سے آگاہ رکھیں اور ہر فرد کے یہ ذہن نشین کریں کہ دوسرا کا کہتا ہے اور اس کے اعتراضات کا کیا جواب ہے اور میں اس غرض کے لیے انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ سے کہتا ہوں کہ وہ سال میں ایک ایسا ہفتہ مقررہ کریں جس میں ان کی طرف سے یہ کوشش ہو کہ وہ جماعت کے ہر فرد کو نہ صرف اپنی جماعت کے مسائل سے آگاہ کریں بلکہ یہ بھی بتائیں کہ دوسروں کے کیا کیا اعتراضات ہیں اور ان اعتراضات کے کیا کیا جواب ہیں۔یہ تعلیم کا سلسلہ زبانی ہونا چاہیئے اور پھر زبانی ہی ان کا امتحان بھی لینا چاہیتے تا جماعت میں بیداری پیدا ہو اور وہ دوسروں کے مرحلہ سے اپنے آپ کو پوری ہوشیاری سے بچا سکے گریہ نہ ہو کہ تم اپنی متن میں پڑھنی چھوڑ دو اور دوسروں کی کتابیں پڑھنے میں ہی مشغول ہو جاؤ پہلے اپنے سلسلہ کی کتابیں پڑھو، ان کو یاد کرو ان کے مضامین کو ذہن نشین کرو اور سبب تم اپنے عقائد میں پختہ ہو جاؤ تو مخالفوں کی کتابیں پڑھو۔گھر چوری چھے نہ پڑھو کہ علی الاعلان پڑھو اور سب کے سامنے پڑھو اور پھر مخالف دلائل کا پوری مضبوطی سے تہ کرو اور دوسروں کے مقابلہ میں ایک شیر کی طرح کھڑے ہو جاؤ تا تمہارے متعلق کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ دوسرا تمھیں در خلا سکے گا، بلکہ جب وہ نہیں چھیڑے تو ہر شخص کا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہو کہ اب تم ضرور کوئی نہ کوئی شکار پکڑ کرے آؤ گے۔پس جماعت میں بیداری پیدا کرد ، انہیں دینی اور مذہبی مسائل سکھاؤ انہیں دوسروں کے خیالات کو پڑھنے دور اور اگر وہ خود نہیں پڑھتے تو خود انھیں پڑھکر سناؤ اور پھر ہر اعتراض کا انھیں جواب بتاؤ۔" پروگرام کی شق نمبر ہم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صدر اور سیکرٹریان انصار اللہ کے ساتھ ساتھ صدر خدام الاحمدیہ اور جنرل سیکرٹری تخدام الاحمدیہ کا ایک مشترکہ اجلاس بلایا گیا اور طے پایا کہ : انصار اللہ غیر احمدیوں کی جانب سے کئے جانے والے اعتراضات جمع کریں اور خدام عیسائیوں کے اعتراضات جمع کریں۔