تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 45
۴۵ " جمع شدہ اعتراضات کے جوابات مشترکہ طور پر شائع کئے جائیں۔خدام اور انصار الگ الگ اپنا تعلیمی ہفتہ منائیں لیکن خدام وانصار دونوں پروگراموں میں شریک ہوں۔۴۔تعلیمی ہفتوں کے تین ہفتہ بعد خدام دانصار کا زبانی امتحان لیا جائے۔برترية اس سلسلہ میں حضرت امیر المومنین کے نشاء کے مطابق ایک تعاونی کمیٹی بھی قائم ہوئی جس کے میدان حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (صدر) مولوی عبدالرحیم صاحب در د ر سیکرٹری خلیل احمد صاحب ناصر نائب سیکرٹری اور شیخ محبوب عالم صاحب خالد تھے۔اس کمیٹی کا کام یہ تھا کہ وہ پرو گرام کی شق نمبریہ کے ہاسے ، میں سکیم تیارہ کرے اور اس کا نفاذ کرے۔یکمیٹی دسمبر تک کے لیے قائم کی گئی۔- خدام الاحمدیہ کے زیر اہتمام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا جو امتحان ہوتا ہے انصار بھی اس میں شریک ہوا کریں۔- وقارعمل کے کاموں میں بھی انصارہ شریک ہوا کریں۔انصار اللہ کی تبلیغی جد وجد کا نام را ارایان یا ادارات کے تین کام کو باقاعدہ بنانے میں اللہ کے تبلیغی آغاز ریلی کے لیے شہر کو آٹھ حلقوں میں تقسیم کیا گیا ، طریق کار یہ مقرر ہوا کہ باندی باری دو حلقوں کی دوکانیں ہر جمعرات کو سارا دن اور اگلے روز نماز جمعہ تک بند رہیں، اس طرح در سکانداروں کا ایک چوتھائی حلقہ تبلیغ کے لیے باہر جایا کرے اور جمعرات و جمعہ کی درمیانی رات باہر گذار کر یمانی جمعہ کے لیے واپس آئے لیے اس انتظام کے نگران اعلیٰ چوہدری فتح محمد صاحب سیال مقررہ ہوئے اور انہیں کی ہدایات کے مطابق تبلیغی کام کا آغاز ہوا، قادیان کے گردو نواح میں پیغام حتی پہنچانے کے لیے ممبران انصاراللہ ایک تنظیم کے ماتحت یہ خدمت سرانجام دیتے رہے لیے حضرت امیر المومنین نے شاہ کے ایک خطبہ جمعہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ :۔" ہم لوگوں کو چاہیتے اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کے پاس جاکر ان کو اس رنگ میں تبلیغ کریں کہ یا تو میں مسلم سمجھا دو یا ہم سے سمجھ لو اور یہاں سے انھیں نہیں جب تک سمیت لو اور مقدمت کے قائل نہ کر لیں، اگر اس تجویز پر عمل کیا جائے تو بہت مفید نتائج برآمد ہو سکتے ہیں: حضور کے اس ارشاد کی روشنی میں قادیان کے بعض انصار اپنے رشتہ داروں کے پاس دوسرے مقامات لہ ریکارڈ مجلس انصار الله مرکز بیہ کہ ان تبلیغی مساعی کی رپورٹیں الفضل۔میں ملتی ہیں۔