تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 42
۴۲ شروع کر دیں اچنانچہ اس کے مطابق بیرونی جماعتوں نے اس طرف توجہ کی بیاہ کے آخر تک پچاس کے قریب بیرونی مجالس قائم ہوگئیں۔ان تمام مجالس کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی کار گذاری کی رپورٹ ہر ماہ کی سو تاریخ تک مرکز میں بھجوا دیا کریں، تاکہ ان کا خلاصہ حضرت امیر المومنین کی خدمت میں ملاحظہ کے لیے پیش کیا جا سکے۔ماہوار رپورٹوں کے لیے ایک فارم بھی تجویز کر کے اس کا اعلان 19 جولائی 19 ایہ کے الفضل میں کرا دیا گیا۔ابتدائی تنظیم حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشادات کے بموجب قادیان میں تمام انصار کو پندرہ دن کے اندر منظم کر لیا گیا ہے اور ایک تخمین قائم کی گئی جس کا نام انمین انصار اللہ تجویز ہوا۔شہر کو مندرجہ ذیل تین حلقوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر حلقہ کا ایک ایک سیکرٹری مقرر کیا گیا آنا کہ جملہ امور کی نگرانی ہو سکے۔ا- چوہدری فتح محمد صاحب سیال : کھایا، بھینی ، دارا برکات ، دارای نوار ، تا در آباد مولوی عبد الرحیم صاحب درد : مسجد مبارک ، مسجد اقصیٰ ، مسجد فضل ، ناصر آباد انگل مولوی فرزند علی صاحب دارالرحمت ، دار العلوم مع احمدآباد، دارالفضل ، دار الفتوح، ہر محلہ میں انصار اللہ کا ایک عظیم مقر کیا گیا، تاکہ وہ جملہ امور کی نگرانی کرے اور اپنی کار گذاری کی رپورٹ متعلقہ سیکرٹری کے سامنے پیش کریے سہولت کے پیش نظر ہر محلہ میں دس دس اراکین جذاب بنا کر ان کا گروپ لیڈر یا سائق مقرر کیا گیا۔ہر سیکرٹری نے اپنے اپنے حلقہ میں تقسیم کار کے طور پر چھ چھے ناظمین بطور معادن مقرر کئے، یعنی ناظم مالی، ناظم تعلیم ، ناظم تربیت ، ناظم تبلیغ ناظم امور و نیوی ، جنرل سیکرٹری۔تا کہ مرشعبہ کا کام بطریق احسن سرانجام دیا جاسکے ، سیکرٹری صاحبان اپنے اپنے حلقہ میں انصار کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے رہے اور کبھی کبھی ے ریکارڈ مجلس انصار اللہ مرکزیہ