تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 284
51941 مئی کو مسجد احمدیہ سول لائنز پشاور میں منعقد ہوا۔حضرت مرزا مبارک احمد صاحب صدر مجلس انتصار اللہ مرکزیہ نے افتتاحی اجلاس میں فرمایا کہ ہمارا مقصد بہت بلند اور تنظیم ہے۔اس کے مطابق ذمہ داریاں بھی بری ہیں۔مقصد ہے غلبہ اسلام۔ہماری خواہش ہونی چاہیے کہ وہ ہماری زندگی میں ہمارے ذریعہ پورا ہو۔اس کے لئے تدبیر اور دُعا اتنی ہونی چاہیے جو اس کا حق ہے۔تدبیر کے سلسلہ میں فرمایا کہ عظیم مقاصد کے پروگرام ایک تو وسیع تر یا EXTEN Sive ہوتے ہیں اور دوسرے محدود تو تمریا نوعیت کے جس میں خاص حصہ پر زور دینا مطلوب ہوتا ہے یعنی INTENSIVE ذیلی تنظیموں کے پروگرام INTENSIVE پروگرام کا حصہ ہیں تاکہ کڑیاں مربوط ہو کہ مضبوط ہوں اور سب افراد اور مل کر وسیع تر پروگرام چلانے کے قابل ہوں۔پھر حضرت امیر المومنین کے ارشادات کی روشنی میں خود بیدار ہونے ، رفاہی کاموں میں حصہ لینے ، اپنے نفسوں کا محاسبہ کرنے اور تلافی مافات کرنے نیز اولاد کی تربیت کی طرف توجہ دلائی اور مدبرو دُعا کے تعلق کو واضح کیا۔اختنامی تقریر میں صوبہ سرحد میں جماعتوں کے قیام کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور کا جبکہ ۳۸ مقامات پر جماعتیں تھیں اور اب صرف ۲۷ جگہ میں ذکر کیا اور کہا کہ یہ قابل افسوس ہے کہ قدم پیچھے کی طرف جارہا ہے۔پھر اس علاقہ کے رسم و رواج کے زیر اثر جو خرابیاں پیدا ہورہی ہیں مثلا لڑکیوں کو ورثہ نہ دینا ، اولاد کی تربیت نہ کرنا وغیرہ ان کی طرف توجہ دلائی۔پھر تبلیغ میں دردمند دل کے ساتھ کوشش کی طرف متوجہ کیا۔بعد ازاں مایوسی دور کرنے کی طرف متوجہ کیا اور کہا مایوسی عدم علم یا کمزور مٹی ایمان سے پیدا ہوتی ہے ، دونوں کا علاج کرنا چاہیئے۔پھر فرمایا اگر چہ سلسلہ کے قیام پر سیاسی سال گزر چکے ہیں لیکن عالمگیر غلبہ منور نظر نہیں آتا اس سے مایوسی پیدا نہیں ہونی چاہیے۔کیونکہ جمالی سلسلے بہت آہستگی سے ترقی کرتے ہیں لیکن اس کے لئے مہربانی نسلاً بعد نسل ضروری ہے۔درمیان میں اتبلا آتے ہیں اور بھائی ، مالی اور وقت کی قربانی دینی پڑتی ہے اور اولادوں کی بھی، تب جا کر مقصود حاصل ہوتا ہے۔اس لئے ہم سیکواپنے قدم تیز سے تیز تر کرنے چاہئیں تاکہ غلبہ کا وقت قریب تر ہو جائے۔