تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 243 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 243

۲۴۲ مجلس انصاراللہ کے پوتھے سالانہ اجتماع سے حضرت میر المومنین خلیفہ اسیح الثانی کا خطاب ۱۳۳۷ بروز یکم نبوت النومبر بش تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: + 190 آج انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کی تقریب ہے میں اس موقعہ پر آپ سے دو باتیں کہنی چاہتا ہوں، ایک تو میں اس بارہ میں آپ سے خطاب کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے فرائض کی طرف توجہ کریں۔آپ کا نام انصار اللہ سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔پندرہ سے چالیس سال کی عمر کا زمانہ جوانی اور امنگ کا زمانہ ہوتا ہے اس لیے اس عمر کے افراد کا نام خدام الاحمدیہ رکھا گیا ہے تاکہ وہ خدمت خلق کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں اور پالیسی سال سے او پر یم والوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے۔اس عمر میں انسان اپنے کاموں میں استحکام پیدا کرلیتا ہے اور اگر وہ کہیں ملازم ہو تو اپنی ملازمت میں ترقی حاصل کر لیتا ہے اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے سرمایہ سے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکے۔پس آپ کا نام انصار اللہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ جہانتک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں اور یہ تو جہ مالی لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے دینی لحاظ سے بھی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں اور دین کا چر چا زیادہ سے زیادہ کریں تا کہ آپ کو دیکھ کر آپ کی اولادوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے۔آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیئے اور اپنی اولادوں کو بھی ذکر الٹی کی تلقین کرتے رہنا چاہیے اور اگر کوئی بشارت آپ پر نازل ہو تو ڈرنا نہیں بچا بیٹے اسے اخبار میں اشاعت کے لیے بھیج دینا چاہیئے۔اصل میں تو یہ انبیاء کا ہی کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی رؤیا و کشوف کو شائع کریں، لیکن انبیاء اور غیر انبیاء میں یہ فرق ہوتا ہے کہ انبیاء میں تحدی پائی جاتی ہے له الفضل مورخہ کار نبوت نومبر میں سو سال م دواء