تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 218
94 ۱۳۳۱ ایش کے اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ انصاراللہ کا کام خدا کے کام میں معدود دیتا ہے۔چونکہ اس کام کی اہمیت و وسعت بے حد و بے حساب اور خدا کی نصرت کے بغیر اس کی تکمیل تک نہیں اس لیے بہت دعائیں کرنی چاہئیں کہ ہم حقیقی معنوں میں انصار اللہ نہیں، ساتھ ہی ہمیں اس کام کی تکمیل کے لیے دان اور رات کام کرنا پڑ گیا اور اپنا آرام نہ کرنا ہو گا، انصار اللہ پختگی کی عمر کو پہنچے ہوئے ہیں اور یہی عمر رسالت و نبوت کے لیے مقرر ہے۔آپ نے فرمایا کہ انبیاء کے دو ہی بڑے کام ہوتے ہیں، ایک تبلیغ دوسرے تربیت پس انصار کے بھی ہیں دو بڑے کام میں پیغام حق پہنچانا اور اپنی اور اپنے اہل وعیال کی تربیت۔پھر آپ نے بتلایا کہ اس دور میں جماعت پر کئی قسم کے بے بنیاد الزام لگا کر فتنے پیدا کئے جارہے ہیں اپرا امن تبلیغ ، حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ ہم نے تمام غلط فہمیوں اور غلط پروپیگنڈا کا ازالہ کرنا ہے علمی رنگ میں تھی اور عملی رنگ میں بھی۔پھر آپ نے فرمایا کہ باتی دور تنظیمیں یعنی اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ در حقیقت انصار اللہ کی زیری ہیں۔ان پر نگاہ رکھنی چاہیے تاکہ وہ جب انصار نہیں تو سلسلہ کا بوجھ اٹھا سکیں، انصار اللہ جماعت کی دیرہ کی بڑی ہیں ، مرکزی عہدہ دار اور امراء زیادہ تر انصار میں اور ان کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ چوکس اور بیدار ہواں آپ نے اپنے خطاب میں اس طرف بھی توجہ دلائی کہ انصار اللہ نے صحابہ مسیح موعود علیہ السلام کے حالات و فوٹو وغیرہ جمع کرنے شروع کئے ہیں۔یہ کام جلداز جلد کمل کر لینا چاہئے۔پھر آپ پردہ کے قیام، بیاہ شادیوں میں اسراف بھوک ہڑتال کی وہا سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ، نیز اس امر کی تلقین کی کہ انصار اللہ کو تحریر کا مکہ پیدا کرنا چاہیئے۔زیادہ سے زیادہ تعداد میں اجتماعات منعقد کرنے چاہئیں اور کتب سلسلہ کے امتحانات میں کثرت سے شرکت کرنی چاہیئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ زبانی تقریر نہیں فرماتے تھے، بلکہ آپ کا طریق یہ تھا کہ مضمون لکھ کر لاتے اور اپنے مخصوص انداز میں نہایت باوقار اور موثر رنگ میں اور آہستہ آہستہ اس مضمون کو پڑھکر سناتے تاکہ بات دلوں میں اُتر جائے۔آپ کی آوازہ میں انتہائی در جی کی کشش اور جذب ہوتا تھا اور سننے والا اور محسوس کرتا تھا کہ آپ کا خطاب دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا اور روحانیت سے بھر اوپر ہے۔" تربیتی نقطہ نگاہ سے اجتماع کے پروگرام کا ایک اہم حصہ ذکر جیب ہوتا ہے جس میں حضرت ذکر حبیب است سیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اپنے چشم دید واقعات اور حالات بیان کرتے ہیں جو نہایت لے ماہنامہ انصار اللہ نومبر ۱۹۶۶ء