تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 70
اور اگروہ اس بات میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو وہ ہرگزہ اللہ تعالی کے حضور سرخرو نہیں ہو سکتے چاہے وہ کتنے ہی چندے دیں اور چاہے کتنے ریزولیوشن پاس کر کے بھجوا دیں " ساری جماعت میں اور بالخصوص آئندہ نسل میں نیکی اور تقویٰ کے قیام کے متعلق تقویٰ کا قیام اور انصار الله حضرت امیر المومنین نے اپنے تخطبه جمعه فرموده ۵ صلح / جنوری ۱۳۳۳ هش میں فرمایا : - ") ۶۱۹۴۳ ایک طرف ہماری جماعت کو نیکی، تقوی ، عبادت گذاری ، دیانت ، راستی اور عدل وانصاف میں ایسی ترقی کرنی چاہیئے کہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی اس کا اعتراف کریں۔اسی فرض کو پورا کرنے کے لیے میں نے خدام الاحمدیہ انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کی تحریکات جاری کنی میں گر میں نہیں کر سکتا کہ ان میں کہاں تک کامیابی ہوگی، بہر حال یہی ایک ذریعہ مجھے نظر آیا جو میں نے اختیار کیا اور ان سب کا یہ کام ہے کہ نہ صرف اپنی ذات زنا نیکی قائم کریں بلکہ دوسروں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور جب تک حتمی طور پر جبر و ظلم ، تعدی بد دیانتی، جھوٹ وغیرہ کو نہ مٹا دیا جائے اور جب تک ہر امیر غریب اور چھوٹا بڑا اس ذمہ داری کو محسوس نہ کرے کہ اس کا کام یہی نہیں کہ خود عدل وانصاف قائم کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ دوسروں سے بھی کرائے خواہ وہ افسر ہی کیوں نہ ہوں ہماری جماعت اپنوں اور دوسروں کے سامنے کوئی اچھا نمونہ نہیں قائم کر سکتی۔نہیں کر سکتی۔۔۔سی طرح اگر جماعت تعداد کے لحاظ سے بھی ترقی نہ کرے تو دنیا فوائد حاصل ہو منظم تبلیغ کی ضرورت ہمارا سب سے اہم فرض ہے کہ اس پیغام کو چھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوا دنیا کے کناروں تک پہنچائیں۔۔۔ہمارے لیے سال میں دو تین بلکہ چار ہزار احمدی بنانا تو افسوس کی بات ہونی چاہیے۔جب تک جماعت کے ہر فرد کے اندر یہ الگ نہ ہو کہ اس نے ہر ایک اپنے قریب بلکہ بعید کے شخص کو بھی جماعت میں داخل کرنا ہے اور جب تک لوگ افواج در اخراج اختبار الفضل الار تبلیغ / فروری ۱۳۲۲ میش "