تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 71
جماعت میں داخل نہ ہوں ہماری حیثیت محفوظ نہیں ہوسکتی اور ذمہ داری ختم نہیں ہوسکتی پس میں ان دونوں امور کی طرف پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔ہر ضلع میں ہمارے جلسے ہونے چاہئیں کوشش کی جائے کہ کم سے کم ہر سال برتحصیل میں ہمارا جلسہ ضرور ہو، پھر اس کے ساتھ انفرادی تبلیغ کو بھی منظم کیا جائے۔خصوصیت سے انصلاع گورداسپور اسیا لکوٹ اور گجرات میں ان تینوں ضلعوں کی طرف خصوصیت سے توحید کی جائے۔۔۔۔۔۔میں چاہیئے کہ دوست سستی اور غفلت کو دور کریں، تین چار ماہ کے اندر اندر تحصیل یا اپنے علاقے کے مرکز احمدیت میں جلسہ کر کے خور کیا جائے کہ کسی طرح اور کن ذرائع سے اس علاقہ میں تبلیغ کو وسیع کیا جا سکتا ہے۔انصار الله اشاعت اسلام اور اعمال خیر کی ترویج میں مشغول ہوں حضرت امیر المومنین نے اپنے خطبہ جمعہ فرموده ۲۹ تبوک استمبر بشر میں فرمایا :- ۱۹۴۴ء میں نے جماعت کو کچھ عرصہ سے تین مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے تا کہ جماعت کا سارا زور اور اس کی طاقت اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں صرف ہو، اسلامی عقائد کے قیام میں وہ مشغول ہو جائے اور اعمال خیر کی ترویج میں اس کی تمام مساعی صرف ہونے لگیں، جماعت کے یہ تین اہم ترین ملتے انصار الله انعدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ ہیں۔یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جس قسم کا کوئی آدمی ہوتا ہے اسی قسم کے لوگوں کی وہ نقل کرنے کا عادی ہوتا ہے۔بوڑھے عام طور پر بوڑھوں کی نقل کرتے ہیں اور نوجوان عام طور پر نو جوانوں کی نقل کرتے ہیں اور بچے بچوں کی نقل کرتے ہیں۔۔۔۔۔بھی حکمت ہے جس کے ماتحت میں نے انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ تین الگ الگ جماعتیں قائم کی ہیں تاکہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی نقل کا مادہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ پیدا ہو۔بچے بچوں کی نقل کریں، نوجوان نوجوانوں کی نقل کریں اور بوڑھے بوڑھوں اخبار الفضل اار اخاء / اکتوبر ۱۳۷۳ اش ۱۹۴۴ء