تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 53 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 53

OH کی جایا کریگی کہ حضور اس موقعہ پر انصار اللہ کو اپنے روح پرور نصائح سے مستفیض ہونے کا موقع عطا فرمائیں۔جماعت کا ہر فرد جو ہم سال یا اوپر کی عمر کا ہے وہ قادیان میں لازمی طور پر انصار اللہ کا رکن سمجھا جائیگا۔بیرو نجات میں مقامی انجمنوں کے عہدہ دار جو اس عمر کے ہوں وہ بھی از نا انصار اللہ کے محمد سمجھے جائیں گے باقیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی انصار اللہ کے ممبر بنیں اور ایسی تحریک ہوتی رہنی چاہیئے۔• تمام ممبروں سے کم از کم ایک اور ماہوار کے حساب سے چندہ لیا جائیگا جس کا باقا عدہ حساب لکھا جائیگا۔نوٹ۔بیرونی انجمنیں اپنے مقامی چندوں کا 20 فیصدی اپنے پاس رکھ کر اپنے طور پر خرچ کر سکتی ہیں باقی مرکز میں آنا چاہیئے لیکن حساب کتاب بہر حال باقاعدہ ہونا چاہیئے۔- ۱۳ اپنے نمبروں کی علمی اور ملی ترقی کے لیے مرکزی نظام انصاراللہ کی طرف سے سال میں ایک دفعہ کتب مسلسلہ کا امتحان مقرر کیا جائے گا جو حتی الوسع سب جگہوں پر منعقد ہو، اور نتیجہ اخبار میں شائع کیا جائے۔اور اول دوم، سوم نکلنے والوں کو مناسب انعام دیا جا ہے ، امتحان کی شرکت کے لیے زیادہ سے زیادہ وسیع پیمانے پر تحریک کی جائے۔جن ممبران انصاراللہ کا کام سال کے دوران میں خصوصیت سے نمایاں ہوا انھیں جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت تخلیفہ اسیح سے ہاتھ سے مناسب انعام دلوایا جائے تاکہ کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔قائد تبلیغ اور جملہ مہتممان تبلیغ کا فرض ہو گا کہ اپنے اپنے حلقہ میں تبلیغ کا بہترین انتظام کریں اور اس بات کی کوشش کریں کہ ہر انصار اللہ کے ذریعہ جماعت میں سال بھر میں کم از کم ایک مخلص احمدی پیدا ہو اور تبلیغ زیادہ تر انفرادی صورت میں کی جائے اور نامناسب بحث مباحثہ کے رنگ سے احتراز کیا جاتے، اسی طرح قائد و مهمان تعلیم و تربیت کا یہ کام ہوگا کہ وہ جماعت میں اسلام اور احمدیت کی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ وسیع طور پر اور تفصیلی صورت میں جاری کریں اور لوگوں کے اخلاق و عادات کی نگرانی رکھیں۔مقامی در سوں اور بڑی عمر کے ناخواندہ لوگوں کی تعلیم کا انتظام بھی منتقم صاحبان کے سپرد ہو گا قائد مہتمم صاحب مال کا کام انصار اللہ کے لیے مختلف قسم کے چندہ جات کی وصولی کا انتظام کرنا اور حساب وکتاب رکھنا ہوگا، دیگر خیبر قسم کا کام جوکسی دوسرے قائد کے حلقہ کار میں نہیں آمادہ قائد اور مستم صاحبان عمومی کے حلقہ میں سمجھا جائے گا، صدر کی ہدایت اور نگرانی کے ماتحت قائد عمومی کے یہ کام بھی ہوں گے۔