تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 38 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 38

WA ہو جانا چاہتا جو شخص کو لگتا اس تقسیم میں شامل ہونا پڑے گا اور اس تنظیم کے ذریعہ علاوہ اور کاموں کے اس امرکی بھی نگرانی رکھی جائے گی کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے جو مسجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا پابند نہ ہو سوائے ان زمیندارونی کے جنہیں کھیتوں میں کام کرنا پڑتا ہے یا سوائے ان مزدوروں کے جنہیں کام کے لیے باہر جانا پڑتا ہے گو ایسے لوگوں کے لیے بھی میرے نزدیک کوئی نہ کوئی ایسا انتظام ضرور ہونا چاہیئے جس کے ماتحت وہ اپنی قریب ترین مسجد میں نمازہ باجماعت پڑھ سکیں۔اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ندام الاحمدیہ کی مجالس تو اکثر جگہ قائم ہیں۔اب انہیں ہر جگہ چالیس سال سے زائد عمر والوں کے لیے مجالس انصاراللہ قائم کرنی چاہئیں۔ان مجالس کے دہی قواعد ہونگے جو قادیان میں مجلس انصار اللہ کے قواعد ہوں گے اگر سر دست یامر کی جماعتوں میں داخلہ فرض کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ ان مجالس میں شامل ہونا ان کی مرضی پر موقوف ہوگا لیکن جو پریزیڈنٹ یا امیر یا سیکرٹری ہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مجلس میں شامل ہوں ، کوئی امیر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار الله یا خدام الاحمدیہ کا عمیرہ ہوا اگر وہ چالیس سال سے اوپر ہے تو اس کے لیے انصار اللہ کا ممبر ہونا ضروری ہوگا، اس طرح سال ڈیڑھ سال تک دیکھنے کے بعد خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ باہر بھی ان مجاس میں شامل ہونا لازمی کر دیا جائیگا کیونکہ احمدیت صحابہ کے نقش قدم پر ہے، صحابہ سے جب جہاد کا کام لیا جاتا تھا تو ان کی مرضی کے مطابق نہیں لیا جاتا تھا بلکہ کہا جاتا تھا کہ جاؤ اور کام کرو۔مرضی کے مطابق کام کرنے کا میں نے جو موقعہ دینا تھا وہ قادیان کی جماعت کو میں دے چکا ہوں اور جنھوں نے ثواب حاصل کرنا تھا انھوں نے ثواب حاصل کر لیا ہے البتہ انصار اللہ کی فیس چونکہ اس شکل میں پہلے قائم نہیں ہوتی اور نہ کسی نے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے اس میں بھو بھی شامل ہوگا اسے وہی ثواب ہو گا جو طوعی طور پر نیک تحریکات میں شامل ہونے والوں کو ہوتا ہے ایک ایک دفعہ پھر جعبات کے کمزور حصہ کو اس امر کی طرف توجہ دلا تا ہوں کہ دیکھو شتر مرغ کی طرح مت بنو جو کچھ ہو اس پر استقلال سے کاربند رہو، اگر تمہارا یہ دعوی ہے کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ ولم کے صحابہ