تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 14
کو پہنچ گئیں اور آنحضور کے فرمودہ کے بموجب اسلام کا صرف نام باقی رہ گیا اور ایمان اس دنیا سے مفقود ہو کر ثریا تک جا پہنچا۔تب خدا تعالیٰ کی رحمت نے پھر جوش مارا اور انگرين منهم لم ا یلحقوا بهم کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا۔اللہ تعالیٰ نے ازل سے یہ مقدر کو چھوڑا تھا کہ مسیح موعود و مہدی معہود کے ذریعہ اسلام کی نشان نمانیہ کا انتظام فرمائے اور دنیا پھر اس حسین تعلیم اور نعمت کا درس سے فیضیاب ہو۔مخبر صادق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جو علامات اس با برکت زمانہ کی تلائی تھیں وہ چودھویں صدی میں آگرہ پوری ہوگئیں آسمان نے بھی اس کی گواہی دی اور زمین نے بھی اور خدا کا برگنہ یہ مسیح موعود قادیان کی سرزمین سے ٹھیک نت پر ظاہر ہو گیا۔پر جس خریہ اسلام کے ابتدائی ظہور کے لیے اللہ تعالیٰ نے عرب کے بیابانوں کو منتخب کیا جہاں سے کسی خیر کے ظاہر ہونے کے کوئی امکانات نہ تھے اسی طرح اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے خدا سے حکیم و خبیر نے قادریان جیسی کوردو اور گنام سنتی کو مخاطب کیا اور ایسے وقت میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام سے اس کے گاؤں کے لوگ بھی پوری طرح آشنا نہ تھے اس کو یہ خوشخبری دی کہ میں تیرے نام کو عزت سے دنیا میں پھیلاؤں گا، میان تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اس کام کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بشارت دی کہ LARGE PARTY OF I Shall Give You A ISLAM یعنی میں تجھے جان نثاروں اور وفا شعاروں کا ایک مقدس گروہ بھی عطا کروں گا ، نیز فرمایا : ينصرك رجال نوحى اليهم من السمالله یعنی تیری مددوہ لوگ کرینگے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الهام کرینگے اور فرمایا یا تون من كل فج عميق ، یعنی اس کثرت سے لوگ تیری طرف آئیں گئے کہ جن رہا ہو پر وہ چلیں گے رو عمیق ہو جائیں گی اور یہ لوگ دور دور سے تیرے پاس پہنچیں گے ، غرض اللہ تعالیٰ نے جان قیام شریعیت اور احیاء دین کا فریضہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپرد فرمایا وہاں اعوان و انصار کی ایک جماعت دیئے جانے کا بھی وعدہ فرمایا ، ایسے انصار جو خدا تعالیٰ کی وحی کے مور د ہوں گے اور اپنے قول و فعل سے حضور کے مشن کو کامیاب کرنے کی کوشش کریں گے ، یہ خدا تعالیٰ کی گواہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیه السلام پر ایمان لانے والے اپنے کردار کے اعتبار سے پاکبازوں کی ایک جماعت ہوگی جو حقیقی معنوں میں د کرد طبع دوم ص ۱۰۷ ته ايضاً من ٥٠