تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 93
۹۳ اکتوبر کو ہو۔اس کے لیے پر گرم بھی تجویز کرلیا گیا اور الفضل میں بار بار یہ اعلان کر دیا گیا کہ ہم جس کی طرف سے کم از کم ایک نمائندہ ضرور آنا چاہئیے ، اسی طرح مجالس کو ہدایت کی گئی کہ وہ شور علی انصار اللہ کے لیے تجاویز بھجوائیں۔سور اتفاق سے مجوزہ تاریخوں سے قبل ملک میں سیلاب آ گیا اس لیے اجتماع مقررہ تاریخوں کی بجائے ۱۸ - ۱۹ نبوت / نومبر کو منعقد ہوا۔مجلس کا پہلا اجتماع اس لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل تھا کہ اراکین مبس نے اجتماع کے ایام غیر معمولی طور پر دعاؤں اور عبادت میں گزارے چنانچہ حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی نے بھی۔اور نبوت کو خدام کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے ان دعاؤں اور ان کی غیر معمولی تاثیرات کا ذکر فرمایا۔نماز نتیجه باینجاست ادا کی گئی۔دوسری نمازیں پڑھانے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے قدیم ترین صحابہ کو منتخب کیا جاتا رہا۔مرا عبلاس تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا اور مختلف اوقات میں قرآن کریم، احادیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درس ہوئے ، تقاریر کے موضوع ایسے تھے جن سے نفس کی اصلاح اور تلوب کا تنہ کیہ ہو، اجتماع کے پہلے اجلاس میں حضرت امیر المومنین کے ارشاد کے بموجب تہجد پڑھنے اور دعائیں کرنے والے انصار کے اعداد و شمار جمع کئے گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اجتماع میں شامل ہونے والوں کی اکثریت ان امور کی پابند پائی گئی۔اجلاس کے پروگرام اور دوسرے اوقات کی دعاؤں سے ایک خاص روحانی ماحول قائم رہا۔بعد ازاں اس قسم کے اجتماعات سال کی آخری سہ ماہی میں ہر سال منعقد ہونے لگے جن کی تفصیل سالانہ اجتماعات" کے عنوان کے تحت الگ پیش کی گئی ہے۔اللہ تعالی کے فضل سے انصار اللہ کے سالانہ اجتماعات بڑے مفید اور بابرکت ثابت ہوئے اور جو ہے ہیں۔ان میں حضرت امیرالمومنین کے ارشادات اور زرین ہدایات سننے کا موقعہ ملتا ہے، پھر ان میں ذکر جیب" کے موضوع پرسشی بہ کرام اپنے چشم دید حالات اور اپنے تاثرات بیان کرتے ہیں جو سامعین کے لیے ازدیاد ایمان کا موجب ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ درس قرآن کریم - درس حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا پاکیزہ کلام سننے کا موقعہ متا ہے۔اجتماعی دعائیں ہوتی ہیں۔صحبت صالحین میسر آتی ہے۔دو تین دن انسان دنیا اور اس کی مصروفیات سے منقطع ہو کر ذکر الہی اور خدا و رسول کی باتیں سننے میں مصروف رہتا ہے یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کے باعث قلوب میں پاکیزگی اور خیالات میں چلا پیدا ہوتی ہے اور ہر شخص جو سنجیدگی اور صحت نیت کے ساتھ ان اجتماعات میں شریک ہوتا ہے وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے بہت کچھ پایا۔